سب سے بڑا خطرہ
ٹونی بلئیر کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ”ایک سفر” اسی ہفتے فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔ یہ اب تک امریکا میں امازون کی جانب سے آن لائن سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دس کتابوں میں سے ایک ہے۔بلئیر کو اس کتاب کے لیے ستر لاکھ ڈالرز کی رقم پیشگی کے طور پر ادا کی جا چکی ہے۔
ٹونی بلئیر نے اس کتاب میں 1997ء سے 2007ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی پالیسیوں کے دفاع کی کوشش کی ہے جس میں عراق پر مسلط کردہ جنگ کا دفاع بھی شامل ہے لیکن اس جنگ کی وجہ سے انہیں عالم اسلام کے علاوہ مغربی ممالک میں بھی ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جاتا ہے اور جنگ مخالف لاکھوں لوگ ان کے اور سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کےخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
بلئیر کا اس کتاب میں کہنا ہے کہ انہیں امریکا کی قیادت میں عراق کے خلاف جنگ میں کودنے کے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے لیکن اس جنگ کا نشانہ بننے والوں کے لیے انہوں نے مگر مچھ کے آنسو ضرور بہانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس کتاب سے حاصل ہونے والی تمام آمدن کو زخمی برطانوی فوجیوں کے علاج معالجے اور فلاح وبہبود کے لیے قائم کیے گئے ایک خیراتی ادارے کو عطیہ کر رہے ہیں لیکن جنگ ایندھن بننے والے عراقیوں کو کچھ نہیں دیا۔
انہوں نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ عراق اورافغانستان کی جنگوں کی وجہ سے مسلم ریڈیکلائزیشن میں اضافہ ہواہے۔انہوں نے راسخ العقیدہ اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ”برا اور پسماندہ ریڈیکل اسلام عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑاخطرہ ہے”۔
عراق اور افغانستان میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکتوں کا سبب بننے والے سابق برطانوی وزیر اعظم نے بی بی سی ورلڈ سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”وسیع تر راسخ العقیدہ تحریک بین الاقوامی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ انقلابی کمیونزم سے مماثلت رکھتی ہے”۔
یاد رہے کہ بش اور بلئیر کی جوڑی نے عراق کے خلاف وہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی بنیاد پر جنگ مسلط کی تھی اور اس سے قبل افغانستان میں ان کی مسلط کردہ جنگ جاری تھی۔ لیکن ایسے ہتھیار عراق سے اب تک برآمد نہیں ہوئے۔ان دونوں جنگوں کے عروج کے زمانے میں یہ نعرہ بہت مشہور ہوا تھا:”بش ،بلئیر لائیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیپل ڈائیڈ””بش ،بلئیر جھوٹ بول رہے اور لوگ مر رہے ہیں”۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…