جواب: حضرت امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب سنن ترمذی میں ایک باب باندھا ہے: لکل أہل بلد روٴیتہم، یعنی ہرملک والے کے لیے وہیں کی روٴیت معتبر ہے، پھر لمبی حدیث ذکر کرکے اسے ثابت بھی کیا ہے، اس لیے اگر فجی میں چاند دیکھا گیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں نہیں دیکھا گیا تو فجی کی روٴیت پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں روزہ رکھنا یا عید کرنا جائز نہیں بلکہ آسٹریلیا اور نیو زی لینڈ والوں کو روزہ رکھنے کے لیے وہاں کی ہلال کمیٹی کا فیصلہ معتبر ہوگا جو شہادت کے طرق میں سے کسی ایک طریق پر فیصلہ کرے گی۔ یہی حکم اس صورت کا بھی ہے جب کہ آسٹریلیا یانیوزی لینڈ میں چاند نظر آجائے اور فجی میں نظر نہ آئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
Answer: 15588
1413=1123/1430فتوی: /ل
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام