مذہبی حلقوں کی اختلافی آراء
اخبار لکھتا ہے کہ “اگرچہ نئے فتوے کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم یہودیوں کے تمام مذہبی اس فتوے کے حق میں نہیں۔ اختلاف کرنے والوں میں یہودی مذہبی جماعت شاش بھی شامل ہے۔
شاس کے سربراہ اور یہودیوں کےایک اہم روحانی پیشوا عوفادیا یوسف کے صاحبزادے الراف ابراھیم یوسف کہتے ہیں کہ “ماضی میں یہودی مذہبی پیشواٶں کی کسی نسل یا گروہ نے ایسا انتہاء پسندی کا مظہر لباس اختیار کرنے تاکید نہیں کی اور نہ ہی یہودی خواتین میں ایسا لباس اختیار کرنے کی کوئی مشترکہ روایت رہی ہے۔
یہودی مذہبی پیشواٶں کی جانب سے خواتین کو خوبصورت لباس پہننے کی ترغیب دی ہے حتی کہ خواتین کے لیے ایام مخصوصہ میں بھی خوبصورت لباس اختیار کرنے کی تعلیم موجود ہے”۔
خواتین پر موبائل فون استعمال کی پابندی
معاریف کے مطابق یہودی انتہا پسند حلقوں کی جانب سے صرف خواتین کے نئے لباس کی سختی سے تاکید نہیں بلکہ خواتین کے موبائل فون پربات کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے چند روز میں”ہریدیم” سوسائٹی کی خواتین پر پبلک مقامات اور بسوں میں سفر کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…