مذہبی حلقوں کی اختلافی آراء
اخبار لکھتا ہے کہ “اگرچہ نئے فتوے کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم یہودیوں کے تمام مذہبی اس فتوے کے حق میں نہیں۔ اختلاف کرنے والوں میں یہودی مذہبی جماعت شاش بھی شامل ہے۔
شاس کے سربراہ اور یہودیوں کےایک اہم روحانی پیشوا عوفادیا یوسف کے صاحبزادے الراف ابراھیم یوسف کہتے ہیں کہ “ماضی میں یہودی مذہبی پیشواٶں کی کسی نسل یا گروہ نے ایسا انتہاء پسندی کا مظہر لباس اختیار کرنے تاکید نہیں کی اور نہ ہی یہودی خواتین میں ایسا لباس اختیار کرنے کی کوئی مشترکہ روایت رہی ہے۔
یہودی مذہبی پیشواٶں کی جانب سے خواتین کو خوبصورت لباس پہننے کی ترغیب دی ہے حتی کہ خواتین کے لیے ایام مخصوصہ میں بھی خوبصورت لباس اختیار کرنے کی تعلیم موجود ہے”۔
خواتین پر موبائل فون استعمال کی پابندی
معاریف کے مطابق یہودی انتہا پسند حلقوں کی جانب سے صرف خواتین کے نئے لباس کی سختی سے تاکید نہیں بلکہ خواتین کے موبائل فون پربات کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے چند روز میں”ہریدیم” سوسائٹی کی خواتین پر پبلک مقامات اور بسوں میں سفر کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید