Categories: فقہ و احکام

معلق طلاق کی ایک صورت

سوال: ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا ہے کہ اگر وہ اپنی بہن کے گھر جاتی ہے تو اس کو طلاق ہوگی۔ اب چند سال کے بعد وہ شخص اپنے الفاظ پر افسوس کرتا ہے اور چاہتاہے کہ اس کی بیوی اپنی بہن کے گھر جائے۔ کیا اگر وہ اپنی بہن کے گھر جاتی ہے تو وہ مطلقہ ہوجائے گی؟ کس طرح کی طلاق واقع ہوگی؟ کیا جب پہلی مرتبہ وہ جائے گی تبھی طلاق واقع ہوگی یا جب جب وہ جائے گی تب تب طلاق واقع ہوگی؟ کیا شریعت میں اس کا کوئی حل ہے تاکہ وہ اپنی بہن کے گھر چلی جائے اپنے ازدواجی رشتہ کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے ہوئے؟

جواب: “اگر میری بیوی اپنی بہن کے گھر گئی تو اسے طلاق” یہ جملہ یمین یعنی قسم کا ہوگیا۔ اس جملہ کو واپس لینا جائز نہیں۔ بیوی جب اپنی بہن کے گھر جائے گی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اور قسم پوری ہوجائے گی، آئندہ بہن کے گھر جانے پر دوبارہ طلاق نہیں پڑے گی، اگر عدت کے اندر شوہر نے اپنی بیوی سے زبانی رجعت کرلی، یا اس کے ساتھ ہمبستری کرلی تو یہ رجعت صحیح ہوگئی، نکاح کی ضرورت نہ ہوگی۔ دونوں میاں بیوی ازدواجی زندگی گذارسکتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

فتوی(ب): 380=298-3/1431
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

modiryat urdu

Recent Posts

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago

جمعہ خونین زاہدان کا واقعہ ناقابل فراموش ہے

جمعہ خونین زاہدان کا واقعہ ناقابل فراموش ہے

1 week ago