چیلنجز
افغانستان گذشتہ تین عشروں سے جنگوں اور تنازعات کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے معدنی ذخائر سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکا ہے جبکہ اس وقت جنگ زدہ ملک پر گذشتہ نوسال سے سوالاکھ کے قریب غیر ملکی فوج قابض ہے جس کی طالبان اور دوسرے اسلامی جنگجو مزاحمت کررہے ہیں۔
افغانستان کو معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے اور اسے مارکیٹ تک لانے کے لیے ابھی بہت اقدامات کی ضرورت ہے۔اس وقت اس ملک کے شمالی حصے کوجنوب سے ملانے والی صرف ایک قومی شاہراہ ہے جبکہ اس شاہراہ پر بھی آئے دن بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمزور مرکزی حکومت کی وجہ سے افغانستان فی الوقت اپنی معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔
ایک سیاسی تجزیہ کارجنان موسیٰ زئی کا کہنا ہے کہ ”مجھے اس میں بہت زیادہ شک ہے کہ یہ حکومت قدرتی وسائل کا مناسب انتظام کرسکے گی یا انہیں بروئے کارلاکر افغانستان کوتمام افغانوں کے لیے زیادہ پُرامن اورخوشحال بنا سکے گی”۔
انہوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس دوسرے ممالک کی زندہ مثالیں موجود ہیں جہاں قدرتی دولت کو عوام کی خوشحالی اورامن کے لیے مناسب طریقے سے بروئے کارنہیں لایا جاسکاہے”۔اس ضمن میں انہوں نے نائیجیریا کا حوالہ دیا جہاں تیل کی بڑے پیمانے پربرآمدات کے باوجودنہ ختم ہونے والی غربت اور تنازعات بھی موجود ہیں۔
موسیٰ زئی کا کہنا ہے کہ افغان اورسوویت ماہرین ارضیات اس سے پہلے قیمتی معدنی ذخائر کی افغانستان میں موجودگی کی اطلاع دے چکے ہیں لیکن اب ان معلومات میں صرف یہ اضافہ ہواہے کہ ان کی قیمت ڈالرز میں بتائی جارہی ہے۔
چین اوربھارت پہلے ہی افغانستان میں کان کنی اور کانوں کی تعمیروترقی کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے کی غرض سے کوشاں ہیں۔چین تانبا نکالنے کا ٹھیکا حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے جبکہ فولاد نکالنے کا ٹھیکا اسی سال کے آخر میں دیا جارہا ہے۔
افغانستان میں نئی معدنیات کی دریافت سے یہاں بھی چین اور امریکا کے مفادات کا ایک مرتبہ پھرتصادم ہوسکتا ہے۔واشنگٹن میں بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں تانبانکالنے کا ٹھیکا اوراس قیمتی دھات سے فائدہ توچین حاصل کررہا ہے جبکہ امریکی فوجی صرف طالبان مزاحمت کاروں سے ہی نبردآزما ہیں۔
بعض دوسرے تجزیہ کاروں اورعسکری امور کے ماہرین کے بہ قول امریکی فوج اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجودگذشتہ ساڑھے نوسال کے دوران افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کچلنے میں ناکام رہی ہے اوراب امریکا نے اس ناکامی کے بعدطالبان سے سلسلہ جنبانی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن طالبان کی جانب سے مذاکرات سے مسلسل انکار کی وجہ سے امریکا کو اس میں بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…