غلیظ پروپیگنڈا
ایردوان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کے جوہری تنازعے کے سفارتی حل کے لیے جوہری ایندھن کے تبادلے سے متعلق گذشتہ ماہ طے پائے معاہدے پر کام جاری رکھے گا۔
انہوں نے مغرب کی جانب سے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا کہ ترکی مشرق کی جانب اپنا رُخ کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے دعوے بدنیتی کے تحت کیے جارہے ہیں اور ان کا مقصد ترکی کوعرب اقوام سے مضبوط تعلقات استوار کرنے سے روکنا ہے۔
ترک وزیراعظم نے شام اور دوسرے عرب ممالک میں فرانسیسی سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ترکی کی عرب ممالک میں سرمایہ کاری کا معاملہ آتاہے تواس عمل کو روکنے کے لیے ایک غلیظ پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ”جولوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ترکی مغرب سے ناتا توڑرہا ہے،وہی دراصل اس کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں جبکہ ہمارے دروازے دنیا کے تمام حصوں کے لیے کھلے ہیں،ہمارے دروازے کسی ایک کے لیے کھلے اور دوسرے کے لیے بند نہیں ہیں”۔
ترکی اور مغرب میں بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا واحد مسلم ملک اب امریکا کی قیادت میں اہل مغرب کی مسلم دنیا کے خلاف چیرہ دستیوں کا ساتھ دینے کو تیارنہیں اور ان کے موقف سے منہ پھیررہا ہے۔اس نے امریکا کے اتحادی اسرائیل کے خلاف فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے بعد سے سخت موقف اپنا رکھا ہے اور اب اس نے ایران پر نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے قراردادکی بھی مخالفت کردی ہے۔
ترکی کے اس دلیرانہ موقف کی وجہ سے اسلامی دنیا میں ترک قیادت کو بڑی پذیرائی ملی ہے اورترکی کوعالم اسلام کے ایک نئے لیڈر ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو اپنے عرب اور مسلم اتحادیوں کے ساتھ مل کر کم سے کم مشرق وسطیٰ کے خطے کی سیاست تبدیل کرنے جارہا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…