جواب: آپ کی دلسوز تحریر ایمانی بیداری کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ فکرمندی کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ حدیث میں پیشین گوئی فرمائی گئی ہے کہ اسلام اپنے ابتدائے ظہور میں بھی غریب (اجنبی) تھا اور قیامت کے قریب بھی اجنبی ہوجائے گا، پھر بشارت دی گئی کہ جو لوگ اجنبیت کی حالت میں اسلام کو گلے لگائیں گے وہ بہت بابرکت لوگ ہوں گے۔ دوسری حدیث میں فرمایا گیا کہ: قیامت کے قریب دین پر چلنا ایسا ہوگا جیسا کہ ہاتھ میں انگارہ لینا۔ اور کتاب الفتن کی روایت میں ہے کہ قیامت کے قریب ایسے فتنے لگاتار ظاہر ہوں گے، جن میں بعض لوگ مبتلا ہوکر صبح مومن رہیں گے مگر شام کو کافر ہوجائیں گے، شام کو مومن ہوں گے تو صبح کو کافر ہوجائیں گے۔ مقداد بن اسود کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السَّعیْد لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، نیک بخت وہ شخص ہے جو ان فتنوں سے بچارہا، یعنی بالکل کنارہ کش رہا اور جو شخص اس میں پڑگیا، پھر بھی ایمان اور عمل صالح پر جما رہا وہ بھی نیک بخت ہے۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ یہ فتنے علامات قیامت میں سے ہیں، ان سے بچنے کے لیے ایمان پراستقامت اوراعمال صالحہ پر مداومت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، خواہ پہلی سوچ کے مطابق بالکل یکسوئی کی راہ اختیار کرے یا دوسری سوچ کے مطابق اس میں پڑکر اپنے دین کو بچانے کی کوشش کرے، ہرشخص کے حالات ایمان وعمل کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ تقویٰ کیا ہے؟ تو ابی بن کعب نے کہا کہ امیرالموٴمنین آپ کا گذر کسی جھاڑدار جگہ سے ہوا ہے امیرالموٴمنین نے کہا بارہا ہوا ہے، حضرت ابی نے فرمایا جس طرح جھاڑدار جگہ سے گذرتے ہوئے دامن کو بچاتے ہوئے دبتے دباتے نکلتے ہیں، اسی طرح زندگی میں دنیا کے کانٹوں سے بچٹے بچاتے دامن کو سنبھالتے گذرجانے کا نام تقویٰ ہے۔ آج بھی اسی طرح بچتے بچاتے دین پر عمل کرنا کافی ہوگا، کم ازکم گناہ کبیرہ سے بچنے کا اہتمام کرتے ہوئے فرائض وواجبات کی پابندی کی جائے، نامحرم لڑکیوں اور عورتوں سے اختلاط، بے تکلفانہ بات چیت سے پرہیز کیا جائے، بوقت ضرورت کوئی ضروری بات کرنی ہو تو نظریں نیچی کرکے کریں، جب کبھی کوتاہی ہوجائے توبہ واستغفار کرتے رہیں، استقامت علی الدین اور خاتمہ علی الایمان کی دعا کرتے رہیں۔ باقی اس طرح کے خیالات کہ لوگ کیا سوچیں گے یا سوچتے ہیں یا کہتے ہیں اور کہیں گے یہ سب شیطانی وساوس ہیں، آپ ایک حق اور سچے دین پر عمل پیرا ہیں، احساس کمتری دل سے نکال دیجیے۔
فتوی: 1682=1391/1430/د
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…