طالبان کے ملوث ہونے کی کوئی شہادت نہیں : نیویارک پولیس

نیویارک (BBC) طالبان نے نیویارک کے مصروف اور مقبول علاقے ٹائم سکوائر پر ایک کار بم نصب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام نے ایک کار میں نصب ایک خودساختہ بم کو ناکارہ بنا دیاگیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے کہا ہے کہ ابھی کی جانے والی چھان بین کے دوران کوئی شہادت سامنے نہیں آئی ہے جو طالبان کے دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔

نیویارک پولیس نے کہا ہے کہ کار میں نصب کیا جانے والا بم انتہائی ابتدائی نوعیت کا تھا اور وہ علاقے میں نصب کمیروں کی مدد سے بم نصب کرنے والے شخص تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس کو کچھ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ایک شخص نے بم نصب کرنے والے شخص کی تصویر بنائی تھی اور پولیس اس شخص سے مزید معلومات کے لیے اس کے ملاقات کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اتوار کے روز ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں پاکستانی طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عراق میں اپنے دو ساتھیوں البغدادی اور المہاجر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے کار میں بم نصب کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے شہر کے سیونتھ ایونیو کی گلی نمبر پینتالیس میں کھڑی ایک نسان پاتھ فائنڈر میں نصب ٹائمنگ آلات، پٹرول اور مشتبہ کنستر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
نیویارک پولیس کے ترجمان نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ گاڑی کے شیشوں کو ایک خودکار مشینی ہاتھ کی مدد سے توڑا گیا اور اس کے بعد اس میں موجود دھماکہ خیز مواد کو پاؤڈر، پٹرول اور ٹائمنگ آلات جو ایک گھڑی سے جڑے ہوئے تھے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کو ایک مشتبہ کار کی موجودگی کے پیش نظر ٹائم سکوائر کے نہایت مصروف اور سیاحوں میں مقبول علاقے کو خالی کر لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ علاقے میں قائم کئی تھیٹروں کو بھی بند کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق بظاہر کار بم ایک ناکام حملہ تھا اور ابھی تک اس کے مقصد کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ رجسٹریشن سے نہیں ملتی ہے۔
نیویارک کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق لوگوں نے حکام کو گاڑی سے متعلق اس وقت آگاہ کیا جب ایک شخص کو وہاں سے فرار ہوتے اور گاڑی سے دھواں نکلتے دیکھا گیا تھا۔
نیویارک کے میئر اور امریکی صدر براک اوباما نے پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ ’ہم بہت خوش قسمت ہیں، ہم ایک ایسے واقعے سے بچے ہیں جو بہت خوفناک ثابت ہو سکتا تھا۔‘
اس واقعے کی انکوائری شروع کی دی ہے اور ایف بی آئی کی ٹیم نیویارک پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر براک اوباما کو واقعے کی تحقیقات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ نیویارک میں اس واقعے سے پہلے زیر زمین ریلوے سٹیشن پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی کا پتہ چلا تھا۔
modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago