الجواب باسم ملھم الصواب
اگر وارث، مرحوم شخص کی طرف سے خود حج کرے یا کسی دوسرے شخص کو میت کی طرف حج پر روانہ کرے ان شاء اللہ قبول ہوگا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اداء کرنے کو مطلقاً قرض ادا کرنے سے تشبیہ دی ہے۔ قرضہ اور دین کی ادائیگی مدیون اور مقروض کے حکم بغیر بھی ہوجائے گی اگر دائن اور مالک قبول کرے۔ جس طرح اس مسئلہ میں مدیون سے قرضہ اتر جاتاہے اسی طرح حج میں میت کی وصیت کے بغیر حج اداء ہوجائے گا۔
محمودالفتاوی270/2
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…