الجواب باسم ملھم الصواب
اگر وارث، مرحوم شخص کی طرف سے خود حج کرے یا کسی دوسرے شخص کو میت کی طرف حج پر روانہ کرے ان شاء اللہ قبول ہوگا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اداء کرنے کو مطلقاً قرض ادا کرنے سے تشبیہ دی ہے۔ قرضہ اور دین کی ادائیگی مدیون اور مقروض کے حکم بغیر بھی ہوجائے گی اگر دائن اور مالک قبول کرے۔ جس طرح اس مسئلہ میں مدیون سے قرضہ اتر جاتاہے اسی طرح حج میں میت کی وصیت کے بغیر حج اداء ہوجائے گا۔
محمودالفتاوی270/2
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…