الجواب باسم ملھم الصواب
اگر وارث، مرحوم شخص کی طرف سے خود حج کرے یا کسی دوسرے شخص کو میت کی طرف حج پر روانہ کرے ان شاء اللہ قبول ہوگا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اداء کرنے کو مطلقاً قرض ادا کرنے سے تشبیہ دی ہے۔ قرضہ اور دین کی ادائیگی مدیون اور مقروض کے حکم بغیر بھی ہوجائے گی اگر دائن اور مالک قبول کرے۔ جس طرح اس مسئلہ میں مدیون سے قرضہ اتر جاتاہے اسی طرح حج میں میت کی وصیت کے بغیر حج اداء ہوجائے گا۔
محمودالفتاوی270/2
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام