شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ۲ جنوری ۲۰۲۶ء کو زاہدان کی جمعہ کی نماز کے خطبوں میں عوام کے معاشی مسائل کے حل میں حکومتوں کی براہِ راست ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کا فرض ہے وسائل کی درست تدبیر، پابندیوں کا مقابلہ، قومی کرنسی کی قدر کا تحفظ اور عوام کی فریاد سننا۔ عوام کے پُرامن احتجاج ایک قانونی اور جائز حق ہیں۔
حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری: قومی دولت کا انتظام اور روزگار کی فراہمی
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے خطبے کے آغاز میں کہا: حکومتیں خدائی عطا کردہ دولت اور وسائل کو قوم کے فائدے کے لیے درست منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ مناسب آمدنی کے ساتھ روزگار کی فراہمی، تجارت کا صحیح انتظام اور اس کا ملک اور عوام کے لیے مفید ہونا دنیا کی تمام حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا : زراعت کی ترقی، مویشی اور زرعی پیداوار، صنعت کو ورکشاپوں، پیداوار اور روزگار کی طرف لے جانا، اور علم و دانش پر توجہ دینا جو ترقی اور پیشرفت کی بنیاد ہے، حکومتوں کے اہم فرائض میں شامل ہے۔ اسی طرح یونیورسٹیوں اور اسکولوں کی ترقی میں مدد دینا بھی حکومتوں کی ذمہ داری ہے تاکہ قوم کے بچوں کی تربیت ہو اور نوجوانوں کو محنت و کام کے لیے تیار کیا جا سکے۔
علما اور حکومتوں کی ذمہ داریوں میں فرق
خطیب اہل سنت زاہدان نے دینی اور حکومتی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: جس طرح روحانی رہنمائی، اخلاقی اصلاح، قرآن کی تلاوت کی ترغیب اور اللہ کی رضا کے راستے دکھانا علما کی ذمہ داری ہے، اسی طرح مادی اور معاشی مسائل، غربت اور بھوک کا خاتمہ حکومتوں کا فرض ہے۔ ایسی حکومتیں جو ایک لحاظ سے زمین میں اللہ کی نیابت کرتی ہیں۔
خلفائے راشدین کا طرزِ عمل: حکمران سادہ، عوام خوشحال
مولانا عبدالحمید نے صدرِ اسلام کے اکابرین کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلافت کے بعد پہلی جمعہ کو منبر پر گئے تو ان کے کپڑوں میں تیرہ پیوند تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کے گھر میں چند جانوروں کی کھالوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی وفات کے وقت کوئی مال نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا: اس کے باوجود وہ اس بات سے فکرمند رہتے تھے کہ کوئی یتیم یا بیوہ بھوکی نہ رہے۔ وہ خود دنیا سے فائدہ نہیں اٹھاتے تھے لیکن چاہتے تھے کہ عوام سیر ہوں اور دوسروں کی دنیا آباد و خوشحال ہو۔
ایران کی عظیم صلاحیتیں اور وسائل کا غلط انتظام
ممتاز عالم دین نے کہا: ایران کے پاس خدائی عطا کردہ وسائل اور دولت بہت وسیع ہے۔ دنیا کے بڑے حصے کو ایران کے تیل اور گیس کی ضرورت ہے۔ ایران کے پاس معدنیات، زرخیز زمینیں، پانی کے وسائل، ماحولیات اور قدرتی ذخائر موجود ہیں۔ اگر ان کا درست انتظام کیا جائے تو ایران عالمی تجارت اور صنعتی ترقی کے لیے بہترین مقام بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایران آٹھ کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کے بہترین جغرافیائی محلِ وقوع میں واقع ہے اور بہت سے ممالک ایران کے زمینی، آبی اور فضائی راستوں کے محتاج ہیں۔
ایرانی عوام، ملکی دولت کے اصل حق دار
خطیب زاہدان نے کہا: ایرانی عوام دنیا کی بہترین قوموں میں سے ہیں۔ یہ ایک باوقار، صابر، سمجھدار قوم ہے جس کے پاس فکر، مہارت اور ایجادات کی صلاحیت موجود ہے، اور دنیا ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا: ہر ملک کا نظم اس طرح ہونا چاہیئے کہ سب سے پہلے اسی ملک کے عوام اس کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں۔ صدقہ بھی تب قبول ہوتا ہے جب انسان کے اپنے بچے بھوکے نہ ہوں۔ سب سے پہلے ایرانی قوم ایران کی دولت کی حق دار ہے۔
انہوں نے واضح کیا: اگر ایرانی عوام بھوکے ہوں تو ایران کی جانب سے دوسرے ملکوں کو دی جانے والی امداد قابلِ قبول نہیں۔ جب قوم سیر ہو اور اضافی وسائل موجود ہوں تو پھر دوسروں کی مدد کی جا سکتی ہے۔
خارجہ پالیسی میں غلط ترجیحات پر تنقید
مولانا عبدالحمید نے بعض جاری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جب ایرانی عوام علاج اور دواؤں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، تو ایک صدر کا دوسرے ملک جا کر اسپتال بنانے اور وسیع امداد کا وعدہ کرنا قابلِ سوال ہے۔ اگر صلاحیت موجود ہے تو اس کا سب سے پہلا حق ایرانی عوام کا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا اور اسی قوم کی بدولت ہے اور ہم سب اسی قوم کے فرزند ہیں۔
انہوں نے کہا: اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے کہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال کی جائے، اور قوم ایک ملک کا خاندان ہوتی ہے۔ دشمنوں کے مقابلے میں اسی وقت کھڑا ہوا جا سکتا ہے جب اندرونی مسائل حل ہوں اور عوام کے دل جیتے جائیں۔
مہنگائی، منڈیوں کی مندی اور قومی کرنسی کی گراوٹ
مولانا عبدالحمید نے ملکی معاشی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل احتجاجی فضا پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے۔ ایرانی عوام کی زندگی جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ معیشت کے اہم ستون بازار ہیں، لیکن جب خرید و فروخت نہ ہو تو مہنگائی تیزی سے بڑھتی ہے اور قیمتیں روز بدلتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ایسی صورت میں دکاندار کیسے کاروبار کرے اور صارف کیسے خریداری کرے۔ قومی کرنسی کی قدر روز بروز غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے اور یہ صورتحال عوام کی زندگی کو شدید مشکل بنا رہی ہے۔
پابندیوں کا خاتمہ، نظرانداز نہ کی جانے والی ذمہ داری
جامعہ دارالعلوم زاہدان کے صدر نے کہا: حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ایرانی عوام اور ان کے مسائل کا حل ہونا چاہیئے۔ قومی کرنسی کی قدر کا تحفظ اور پابندیوں کا مقابلہ ضروری ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ کوئی عہدیدار کہتا ہے کہ اس سے پابندیاں حل کرنے کو نہیں کہا گیا، حالانکہ پابندیاں ختم کرنے کی کوشش کرنا حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا: پابندیوں کو بیس سال ہو چکے ہیں، اور یہ نہیں تھا کہ ایرانی قوم ہمیشہ پابندیوں میں رہے۔ ایک یا دو سال کی پابندی بھی تباہ کن ہوتی ہے اور کوئی ملک دنیا سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔
پابندیاں، چند خاص لوگوں کے لیے نعمت
مولانا عبدالحمید نے کہا: جو لوگ معاشی پابندیوں کو نعمت کہتے ہیں، ایرانی عوام اس کی حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقات جانتے ہیں کہ پابندیوں نے چند خاص لوگوں کو بڑے بڑے سرمائے جمع کرنے کا موقع دیا۔ تیل فروخت ہوا لیکن اس کی رقم واپس نہیں آئی یا بہت کم واپس آئی، اور سب سے زیادہ فائدہ انہی لوگوں نے اٹھایا جنہوں نے پابندیوں کو نعمت قرار دیا۔
عوامی احتجاج کا قانونی حق
انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج عوام کا قانونی حق ہے، بشرطیکہ اس میں توڑ پھوڑ اور نقصان نہ ہو۔ یہ حق بین الاقوامی قوانین، عالمی عرف اور ایران کے آئین میں تسلیم شدہ ہے۔
ان کے مطابق، حکام اور علما عوام کو اس قانونی حق سے نہیں روک سکتے۔ احتجاج حق کی آواز بلند کرنا ہے۔ اس بار بھی تہران کے تاجر، جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، اپنے سرمائے کے ضیاع کی وجہ سے احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور اہلکاروں کے لیے نصیحت
مولانا عبدالحمید نے عوام سے کہا : جو لوگ احتجاج کرنا چاہتے ہیں وہ پُرامن طریقہ اختیار کریں، اور اہلکاروں سے بھی کہا کہ وہ مظاہرین پر تشدد نہ کریں۔ ہم سب ایرانی عوام ہیں اور ایک خاندان کے افراد ہیں، اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا : آج کی بھوک اور غربت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، حتیٰ کہ سرمایہ دار بھی پیسے کی کمی اور منڈیوں کی مندی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
عوام کی فریاد سننا ہی اصل حل
امام جمعہ زاہدان نے آخر میں زور دیا کہ حکام کو عوام کی آواز سننی چاہیئے اور اسے سمجھنا چاہیئے۔ عوام کے مسائل عارضی اقدامات اور امدادی پیکجوں سے حل نہیں ہوں گے۔ عوام کی رائے اور ووٹ کو معیار بنایا جانا چاہیئے، اور کسی سیاستدان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی رائے عوام پر مسلط کرے۔ تمام امور عوامی رائے کی بنیاد پر چلنے چاہییں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام