خاش (سنی آن لائن) مولانا محمدعثمان خاشی نے ایرانی حکام کو نگاہیں ‘بلند’ رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ پیش کیا۔
جامع مسجد الخلیل کے خطیب نے جمعہ چوبیس فروری کو ایرانی بلوچستان کے شہر خاش میں خطاب کرتے ہوئے کہا: جس نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے، صرف نعرے بازی کی ہے یا کوئی بات کہی ہے، اسے رہا کرنا چاہیے؛ چاہے وہ مولوی ہو یا اداکار یا عام شہری۔
جامعہ مدینۃ العلوم خاش کے مہتمم نے ‘‘سچائی، دیانتداری اور سمجھداری’’ کو حکومت چلانے کی اہم ضرورتوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: مطالبات پیش کرنا حکومت اور عوام کے مفاد میں ہے۔ حکومت خطا سے معصوم نہیں؛ اسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔
یاد رہے حالیہ ملک گیر احتجاجوں کے دوران متعدد سیاسی و سماجی شخصیات، خاص کر سنی علمائے کرام ایران کے مختلف صوبوں سے گرفتار ہوچکے ہیں۔ ان میں کردستان اور بلوچستان کے علما سر فہرست ہیں۔
صوبہ کردستان کے صدر مقام سنندج کے دو ممتاز عالم دین ماموستا لقمان امینی اور ماموستا ابراہیم کریمی کو گرفتاری کے 23 دن بعد ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ان کا کیس ابھی تک جاری ہے۔
زاہدان سے مولانا عبدالمجید مرادزہی، مولانا مفتی رضا رخشانی اور مولوی عبدالرؤف رخشانی، اور کرد علاقوں سے ماموستا محمد خضرنژاد، ماموستا حسن فتحی خضرلک اور ماموستا رحمت نصوحی ابھی تک جیل میں قید ہیں۔
جوانرود کے ممتاز عالم دین ماموستا ملا سید سیف اللہ حسینی کو گرفتاری کے بعد سترہ برس قید، 74 کوڑا اوردو سال صوبہ بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…