ایرانی اہل سنت کی خبریں

زاہدان کے خونیں جمعہ کا پلان پہلے سے طے ہوچکا تھا

زاہدان (سنی آن لائن) صدر دارالعلوم زاہدان نے اساتذہ جامعہ کی ہفتہ وار مجلس میں نو اکتوبر دوہزار بائیس کو زاہدان کے خونین جمعہ (تیس اکتوبر) کو پہلے سے طے شدہ پلاننگ یاد کیا۔ انہوں نے علمائے کرام اور عمائدین کو بیدار اور ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے اس بھیانک قتل عام کے اصلی چہروں اور حکم دینے والوں کے ٹرائل پر زور دیا۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ، سنی آن لائن، نے مولانا عبدالحمید کی ویب سائٹ کے حوالے سے ان کے خطاب کے اصلی نکات نقل کیا جو درج ذیل ہیں:
نمازیوں کا مظلومانہ قتلِ عام جو جمعہ تیس ستمبر کو پیش آیا، ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوتاہے کہ خونین جمعہ کا حادثہ پہلے سے طے ہوچکا تھا ؛ حملہ آوروں نے اسی لیے پوری طرح تیاری کی تھی، لیکن ہم بالکل بے خبر تھے۔
اس حادثے کے مثبت نتائج بھی نکلیں گے، چنانچہ عوام میں بیداری پیدا ہوچکی ہے اور خوف عوام کے دلوں سے نکل گیا ہے۔ اس حادثے نے دنیا کو چونکا دیا؛ اگر ہم اس سے بیدار نہ ہوجائیں پھر کیا چیز ہمیں بیدار کرسکتی ہے؟
بیداری اہم ہے۔ وہ قوم جو موت سے ڈرتی ہے اور صرف اپنے مفادات کی فکر میں ہے، اور اپنے معاشرے اور دین کے مفادات کی فکر نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اس سے بیزار ہے اور ایسے بندوں کو نہیں مانتا۔ فرمانِ الہی ہے کہ لوگوں سے نہ ڈریں، مجھ ہی سے ڈریں۔
ہم سب خاص کر علما اور عمائدین ڈر کی وجہ سے بعض سرکاری اداروں کے میڈیا ذرائع کو انٹرویو نہ دیں اور مظلوموں کے زخموں پر نمک نہ ڈالیں۔ اس غلامی اور وابستگی کو خود سے دور کریں۔ اگر ہم نے اپنا ضمیر پاؤں تلے روند ڈالا، عوام ہمیں معاف نہیں کریں گے۔
اس حادثے سے اتحاد کو بڑا دھچکا لگاہے؛ علما اور عمائدین خیال رکھیں کہ عوام کے جذبات مجروح ہوچکے ہیں، لہذا خود کو عوامی غصہ اور غضب کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔
واضح اور واشکاف الفاظ میں کہیں کہ ایک جنایت اور قتل عام واقع ہوا ہے جس کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنے تعلقات اور تعاون میں نظرثانی کرنی چاہیے؛ ظلم حد سے بڑھ چکاہے۔
غلامی کا احساس ایک بیماری ہے؛ اللہ تعالیٰ اس احساس کو ہم سے دور کرے۔
سوال یہ ہے کہ ان نمازیوں کا قصور کیا تھا کہ انہیں شہید کیا گیا؟ بعد میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری ان ہی لوگوں پر ہے جنہوں نے عوام کو شہید کیا اور اپنے جرم عظیم سے عوام کو جذباتی بنایا۔
اصل مجرم وہ ہیں جنہوں نے سکیورٹی فورسز کو نمازیوں پر فائر کھولنے کا حکم دیا۔
عوام، عمائدین، علماء اور شہدا کے گھروالوں کا حکام سے مطالبہ ہے کہ سب حکام اس جنایت کی مذمت کریں، پھر قتل کرنے والے اور قتل کا حکم دینے والوں کو عدالت میں لاکر ان کا ٹرائل کریں۔
صبر بڑی نعمت ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے شہدا کا خون اور قوم کا حق بھول جائیں۔
ان حالات میں کثرت سے ذکر کریں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاکر دعا مانگیں۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago