زیارت واقعے کیخلاف ریڈ زون گورنر ہاﺅس کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دھرنے کو 20 روز گزر گئے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بی این پی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ریڈ زون میں گورنر ہاﺅس کے سامنے جاری دھرنے کو 20 دن گزر گئے۔
دھرنے کے شرکاءکی جانب سے حکومت کو پیش کیے گئے مطالبات کو تاحال تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے دھرنا کیمپ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین شریک ہیں جن میں گزشتہ کئی سال سے لاپتہ کیے گئے بلوچ افراد کے لواحقین شرکت کرتے رہتے ہیں۔
دھرنے کے 20 ویں روز کیمپ میں محمد رمضان بلوچ کی صاحبزادی نے اور دیگر نے شر کت کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد محمد رمضان بلوچ کی جبری گمشدگی کو بارہ سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، ہم ریاست کے مقتدر اداروں اور حکام بالا سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے والد محمد رمضان اور دیگر بلوچ لاپتہ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید