اسلام

حج کب فرض ہوتا ہے؟

فرضیت حج کی چار شرائط ہیں
پہلی شرط: اسلام؛
حج صرف مسلمان پر فرض ہے، کافر پر فرض نہیں۔ (فتاوی دینیہ 137/3، شرائط، فرضیت حج کیا ہیں)

دوسری شرط: عقل؛
حج عاقل اور با شعور مسلمان پر ہی فرض ہے، مجنون پر نہیں (فتاوی دینیہ 137/3) کیوں کہ مجنون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرفوع القلم (غیرمکلف) قرار دیا ہے۔ (ابوداؤد، رقم: 4402، اسنادہ صحیح)

تیسری شرط: بلوغت؛
فرضیت حج کے لیے بلوغت شرط ہے۔ (فتاوی دینیہ 173/3) کیوں کہ نابالغ بچہ مکلف نہیں ہوتا۔ (فتاوی دینیہ 173/3)
البتہ نابالغ حج کرسکتا ہے، جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنا بچہ بلند کیا اور کہا اے اللہ تعالی کے رسول! کیا یہ حج کرسکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں! اور اس کا اجر تیرے لیے ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1336)
لیکن اس کا یہ حج فرض حج سے کفایت نہیں کرے گا، بالغ ہونے کے بعد اگر وہ صاحب استطاعت ہوا تو اسے فرض حج دوبارہ کرنا ہوگا۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الحج 215/1)

چوتھی شرط: استطاعت؛
حج کرنے والا حج کرنے کی قدرت رکھتا ہو، مالی طور پر حج کے اخراجات اٹھا سکتا ہو اور جسمانی طور پر سفر حج کے قابل ہو۔ جیسا ارشاد باری تعالی ہے: «وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا» (سورہ آل عمران، آیت: 97) ترجمہ: اور لوگوں پر اللہ تعالی کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استطاعت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: زادِ سفر اور سواری کا انتظام۔ (سنن ابن ماجہ، باب ما یوجب الحج، رقم الحدیث: 2896، اسنادہ ضعیف)

حج بدل
اگر کوئی شخص مالی طاقت تو رکھتا ہو لیکن جسمانی طور پر سفر حج کے قابل نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی جانب سے کسی ایسے شخص کو حج کروائے جو پہلے اپنی طرف سے فریضہ حج ادا کرچکا ہو۔ جہینہ قبیلہ سے ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ حج کی ادائیگی سے پہلے ہی فوت ہوچکی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس کی طرف سے حج کر۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1852)
یاد رہے کہ عورت کے لیے ان شرائط کے علاوہ ایک اور شرط یہ ہے کہ سفر حج کے لیے اسے محرم کا ساتھ میسر ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے،ترجمہ: عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1862)
یاد رہی کہ جب کوئی ان شرائط کے مطابق حج کی قدرت رکھتا ہو تو اسے پہلی فرصت میں حج کرلینا چاہیے اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

7 days ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago