خطیب اہل سنت زاہدان نے دنیا کے مختلف علاقوں میں ایک ہی دن عید منانے کو ترجیح دینے اور ایک مشترکہ رویت ہلال کمیٹی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا جب تک یہ تمنا پوری نہیں ہوگی، ہر خطے کے مسلمان خود چاند دیکھنے کا اہتمام کرکے عید اور رمضان کا اعلان کریں گے۔
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کی آفیشل ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، کچھ لوگ پوچھتے ہیں ہفتہ (۹ جولائی) کو عرفہ کا دن ہوگا یا نہیں؟ اس دن روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں؟ بعض ملکوں کے اعلان کے مطابق، جمعہ عرفہ کا دن ہے اور یہ سنگم ان کے لیے بڑی فضیلت کی بات ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں سنیچر کے دن عرفہ کا دن ہوگا اور عید اتوار کو ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا: انتیس جون کو اہل سنت کی رویت ہلال کمیٹی نے سرکاری کمیٹی سے مل کر چاند دیکھنے کا اہتمام کیا؛ لیکن ذوالحجہ کا چاند نظر نہیں آیا۔ اعلان ہوا جس نے دیکھا ہے گواہی دینے کے لیے حاضر ہوجائے، لیکن ایک گواہی بھی موصول نہیں ہوئی۔ لہذا ہمارے حساب کے مطابق، عید اتوار دس جولائی کو ہوگی۔
ممتاز عالم دین نے عید کے اعلان میں عدم ہم آہنگی کو عالم اسلام کی کمزوری یاد کرتے ہوئے کہا: یہ مسلمانوں کے لیے بڑی حسرت کا مقام ہے کہ ایک ہی دن میں عید اور رمضان کا اعلان نہیں ہوتا؛ یہ مسلمانوں اور مسلم ممالک کے لیے کمزوری ہے۔
انہوں نے کہا: افسوس ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی ایک مشترکہ اور متفقہ کمیٹی نہیں ہے جس پر سب بھروسہ کریں۔ مسلم ممالک آسانی سے ایک ایسی کمیٹی بناسکتے ہیں جس میں مختلف اسلامی مسالک کی نمائندگی ہو اور وہ رویت ہلال کا اہتم کرے پورے عالم اسلام کے لیے عید اور رمضان کا اعلان کرے۔لیکن جب تک ایسی کمیٹی تشکیل پاتی ہے، ہر علاقے کے لوگ اپنی ہی رویت اور حساب کے مطابق عید اور رمضان کا اعلان کریں گے۔
مختلف مسالک اور قومیتوں کے لوگ اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں ایرانی فوج کے زاہدان یونٹ کے کمانڈر کی نماز جمعہ میں شرکت اور نئی بھرتیوں کے اعلان پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: فوج جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر محنت کرتی چلی آرہی ہے، عوام کے دلوں میں اسے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نئی بھرتیوں کے بارے میں جو اعلان پڑھا گیا اور اس میں واضح کیا گیا کہ مسلک اور قومیت کے امتیاز کے بغیرشرایط و ضوابط کے مطابق ہر شخص بھرتی کے لیے درخواست جمع کراسکتاہے۔
انہوں نے کہا: فوج کا یہ اعلان نیک شگون ہے اور عوام سے درخواست ہے درخواست جمع کرائیں اور اپنے ملک کی خدمت کے لیے وردی پہن لیں۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: ہمارے لوگ چاہے شیعہ ہوں یا سنی اور ان کا تعلق کسی بھی لسانی برادری سے ہو، وہ اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور مختلف مسلح اداروں اور وزارتخانوں میں جاکر اپنے ملک کی خدمت کا شوق رکھتے ہیں۔ امید ہے سب کی نگاہیں اسی طرح وسیع ہوں تاکہ سب لسانی اور مسلکی برادریوں کو اپنے ملک کی خدمت کا یکسان موقع مل جائے اور سب کو ان کے جائز شہری حقوق مل جائیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…