فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے فورم آف اسلام ان فرانس نامی ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں 2003 سے قائم ’’کونسل آف مسلم فیتھ‘‘ کی جگہ ایک نیا ادارہ یا کونسل بنانے کی ہدایت کی ہے۔
فرانس کی وزارت داخلہ نے اس حوالے سے جاری بیان میں بتایا ہے کہ کونسل آف مسلم فیتھ کو رواں ماہ تحلیل کرکے اس کی جگہ ’’فورم آف اسلام ان فرانس‘‘ نامی کونسل لے گی۔
فورم آف اسلام ان فرانس میں امام مساجد، خواتین، سول سوسائٹی کی بااثر شخصیات، دانشور اور کاروباری رہنما شامل ہوں گے۔ ان ارکان کا انتخاب بھی حکومت خود کرے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کونسل کی تشکیل کا مقصد اسلام سے انتہا پسندی کو الگ کرکے اسے فرانس کے سیکولر ازم کے سانچے میں ڈھالنا ہے جہاں سب سے اہم بات فرانسیسی ہونا ہے۔
تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ ایمانوئیل میکرون نے یہ چال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں دائیں بازو کے ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے چلی ہے۔
دوسری جانب فرانس میں بسنے والے 50 لاکھ مسلمانوں کے سرکردہ رہنماؤں اور نمائندوں نے اس کونسل کی شدید مخالفت کی ہے اور اس کے خلاف احتجاج کا عندیہ ہے۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کونسل کے ذریعے انتہا پسندی کو صرف اسلام سے جوڑ دیا جائے گا اور اس طرح صرف مسلم کمیونیٹی کو ہی معتوب کیا جائے گا۔
عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم نمائندوں کا کہنا تھا کہ مسلمان انتہا پسند نہیں بلکہ انتہا پسندی کا شکار ہے۔ انتہا پسندی ہر ایک کمیونیٹی میں پائی جاتی ہے۔اس مسئلے کو مذہب، رنگ، نسل اور زبان سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…