امریکی ریاست ٹیکساس میں یہودیوں کو یرغمال بنانے کے واقعے نے امریکی مسلمانوں کیلئے ایک بار پھر مسلم دشمنی اور الزام تراشی کا ماحول فراہم کردیا ہے۔
ریاست ورجینیا سے ٹیکساس کے نواحی قصبے میں پہنچ کر ایف بی آئی کی بروقت کارروائی اور مذاکرات کے دوران رہائی سے واضح ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اس واقعے کو کتنی ترجیح اور اہمیت دی ۔
ملزم فیصل اس واقعے کے دوران غلط بیانی کرتے ہوئے مسٹر صدیقی نام بتاتا رہا جوکہ عافیہ صدیقی کے ٹیکساس میں آباد رشتہ داروں اور صدیقی نام کے حامل پاکستانیوں کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔
واقعے کے حقائق ابھی سامنے آنا باقی ہیں تاہم اس سے نہ صرف امریکا میں آباد بلکہ مسلمانوں کیلئے حیرانی اور پریشانی کا سامان پیدا کردیا ہے ۔
اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں سے لیکر امریکی مسلمان کمیونٹی کے افراد کو جن سوالات اور صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا وہ انتہائی مشکل مرحلہ ہوگا۔
یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب مسلمانوں کی مساجد کی خفیہ نگرانی کی جارہی تھی تو متعدد امریکی یہودی تنظیمیں مسلمانوں سے ملکر احتجاجی مظاہرے کئے اور مذہبی عبادت گاہوں کے احترام کے حق میں آواز اُٹھائی ، اس لئے مساجد اور یہودی عبادت گاہوں میں انسانوں کو یرغمال بنانا اورمطالبات کرنا نہ صرف شرمناک بلکہ قابل مذمت ہے ۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…