سعودی حکومت کے حکم پر کورونا احتیاطیں ختم کرنے کے حکم کے بعد مسجد الحرام میں دو سال بعد بغیر کسی سماجی فاصلے کے کندھے سے کندھا ملا کر باجماعت نماز ادا کی گئی اور اس پُرنور موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔
عرب میڈیا کے مطابق تقریباً دو سال بعد کورونا پابندیوں کو ختم کرکے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو نمازیوں اور معتمرین کے لیے پوری گنجائش کے ساتھ کھول دیا گیا ہے جب کہ سماجی فاصلے کے بغیر نماز کی ادائیگی کی اجازت بھی دیدی گئی ہے جس کے بعد آج فجر کی نماز میں منظر ہی کچھ الگ تھا۔
نماز فجر کے لیے تکبیر سے اولیٰ سے قبل امام مسجد نے جیسے ہی ’استووا، اقیموا صفوفکم، تراصوا‘ یعنی سیدھے کھڑے ہوجائیں، صفیں درست کرلیں اور کندھے سے کندھا ملالیں تو نمازیوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
یہ وہ الفاظ ہیں جو کورونا وبا کے بعد سے دہرائے نہیں جارہے تھے کیوں کہ ایس او پیز کے تحت نمازیوں کے درمیان سماجی فاصلہ رکھنا ضروری تھا اور مخصوص تعداد کو ہی مساجد میں داخل ہونے کی اجازت تھی تاہم اب دو سال بعد دوبارہ یہ صدائیں مسجد الحرام میں گونج رہی ہیں۔
نماز فجر سے پہلے ہی انتظامیہ نے کورونا ایس او پیز ختم کرنے کے حکم پر عمل کرتے ہوئے خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگی رکاوٹیں اور صفوں پر چپکے سماجی فاصلے کے اسٹیکرز ہٹا دیئے تھے۔
واضح رہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں صرف ان عبادت گزاروں کو جانے کی اجازت ہوگی جنھوں نے کورونا ویکسین کا کورس مکمل کیا ہوگا اور جس کے لیے انھیں اعتمرنا یا توکلنا ایپس سے اجازت نامہ لینا لازمی ہوگا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام