فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے اپنے ملک کی جانب سے الجزائر میں 60 سال قبل کیے گئے قتل عام کو بالآخر ناقابل معافی جرم تسلیم کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے ایمانوئیل میکرون نے سنہ 1961 میں الجزائر میں اُن کے ملک کی جانب سے کیے گئے آزادی کے متوالے مقامی باشندوں کے قتل عام کو پہلی بار ناقابل معافی جرم تسلیم کرلیا ہے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے نہ صرف فرانس کی فورسز کی جانب سے 1961ء میں کیے جانے والے الجزائر کے باشندوں کے قتل عام کو جرم تسلیم کیا بلکہ اس حوالے سے پیرس کے نواح میں کولمبس نامی صنعتی شہر میں ہونے والی تقریب میں حصہ بھی لیا۔
فرانس کے صدارتی رہائش گاہ ایلیزے پیلس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر میکرون نے الجزائر میں قتل عام کو فرانسیسی جمہوریہ کے لیے ’ناقابل معافی جرم‘ کہا ہے۔
حال ہی میں اس معاملے پر فرانس اور الجزائر کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں الجزائر نے فرانس سے اپنے سفیر کو واپس کو بلالیا تھا۔
واضح رہے کہ فرانس نے جب الجزائر پر قبضہ کیا تھا تو نو آبادیاتی حکمرانی کے خاتمے اور الجزائر کی آزادی کے حق میں وہاں کے باشندوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے جنھیں طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی گئی اور سیکڑوں مقامی باشندوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…