مشرقی سوڈان میں ناکام بغاوت کے مرتکب تمام ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جنہوں نے گذشتہ چند دنوں سے پائی جانے والی کشیدگی کو ڈھال بنا کر ملک میں فوجی بغاوت کی کوشش کی۔ العربیہ اور الحدث کے مطابق منگل کو علی الصباح آرمڈ کور کے چند افسروں نے ملکی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، لیکن اس پر جلد قابو پاتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا۔
فوجی ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ جنرل عبدالباقی بکراوی کی قیادت میں کم سے کم بیس فوجی افسروں کے جتھے نے سوڈانی فوج کی آرمڈ کور کا کنڑول سنبھال لیا تھا۔
انہی ذرائع کے بقول آرمڈ کور کے بعض دستوں سے باغیوں کا کنڑول چھڑوانے کے لیے اب بھی سکیورٹی فورسز کارروائی کر رہی ہیں۔
سینئر حکومتی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بغاوت کا ڈرامہ رچانے والوں نے سرکاری میڈیا ہاؤسز کا کنڑول حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔
ایک اور ذریعے نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ باغیوں نے دارلحکومت خرطوم کی جانب دریائے نیل کے کنارے ام درمان ریڈیو اسٹیشن پر کنڑول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
’’ملک کے دفاع کے لیے نکلو‘‘
العربیہ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق میڈیکل کور یونٹ کے سامنے سے اولڈ ام درمان پل کی سمت ٹینکوں کی نقل وحرکت دیکھی گئی جس سے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔
ادھر سوڈان کی عبوری ریاستی کونسل کے رکن محمد الفکی سلیمان نے تمام ہم وطنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے باہر نکلیں۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے انہوں نے ’’ملک کے دفاع کے لیے باہر نکلنے‘‘ کا کہنا ہے۔
تاہم بعد ازاں ایک مزید سوشل میڈیا اسٹیٹس میں الفکی نے ’’حالات پر قابو پانے کی اطلاع دی۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ناکام بغاوت کا سٹیج سجانے والوں کو جلد ہی کٹہرے میں لائیں گے۔ فوج اس ضمن میں جلد بیان جاری کرے گی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…