پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل 50 فیصد سے زیادہ مکمل ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپریل میں 11 ستمبر سے قبل افغانستان سے انخلا کا حکم دیا تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے تقریبا 500 سی 17 کے برابر سامان واپس بلالیا ہے’۔
نیویارک اور واشنگٹن پر حملوں کی 20 ویں برسی، 11 ستمبر تک امریکی فوج کو اپنے 2 ہزار 500 فوجی، 16 ہزار سویلین ٹھیکیداروں اور سینکڑوں ٹن سازو سامان کو ہٹانے کا کام سونپا گیا ہے۔
اب تک سینٹرل کمانڈ نے چھ فوجی تنصیبات کا کنٹرول افغان وزارت دفاع کے حوالے کردیا ہے تاہم کابل سے شمال مشرق میں 50 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم مرکزی بگرام ایئربیس کو خالی کرنا اب بھی باقی ہے۔
سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم مستقبل میں بیسز اور فوجی اثاثوں کی مزید منتقلی کی توقع کرتے ہیں’۔
خیال رہے کہ امریکی فوج اپنے آپریشنز کی سیکیورٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے انخلا کی آخری تاریخ کے بارے میں وضاحت نہیں کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ انخلا کے بارے میں کوئی تخمینہ جاری نہیں کرے گا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…