اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے بعد حالیہ تنازع کی وجہ شیخ جراح کے علاقے میں اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ تنازع کی وجہ شیخ جراح کا علاقہ ہے جہاں اب بھی حالات کشیدہ ہیں جب کہ یہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل لاکھ مظالم ڈھالے، وہ اپنے آباواجداد کی وراثت نہیں چھوڑیں گے۔
شیخ جراح کی رہائشی 23 سالہ مونا الکرد کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان 1950 کی دہائی سے یہاں رہائش پذیر ہے، وہ ایسے ہی اس علاقہ کو کیسے چھوڑ سکتی ہیں۔ مونا الکرد کے والد کا کہنا ہے کہ وہ کسی اسرائیلی عدالت کا فیصلہ نہیں مانتے، 2009 میں اسرائیلی آبادکاروں نے زبردستی ان کے گھر کے پر قبضہ کر لیا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں تقریباً ہر کسی کے گھر میں اسرائیلی رہائش پذیر ہیں۔
صرف شیخ جراح ہی نہیں بلکہ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں 2 لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار آباد ہیں جب کہ فلسطینیوں کی آبادی 3 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
واضح رہے کہ شیخ جراح میں یہودی آبادکاری کے خلاف احتجاج کے باعث شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیلی کی جانب سے شدید بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری کی گئی تھی، 11 روز تک جاری رہنے والی اس بمباری میں 66 بچوں سمیت 254 افراد شہید ہوگئے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان