عالم اسلام

اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینیوں پر دوسرے روز بھی بدترین تشدد، درجنوں زخمی

اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں لیلتہ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں گراتے ہوئے آگئے بڑھے۔
جس کے نتیجے میں پیدل اور گھوڑوں پر سوار اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر بدترین تشدد کیا اور انہیں پسپا کرنے کے لیے اسٹن دستی بم اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس واقعے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ 14 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ کم از کم ایک افسر زخمی ہوا ہے۔
پرانے شہر کے دمشق دروازے کے قریب تقریر کرتے ہوئے 27 سالہ محمود المربو نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دعا کریں، یہاں ہر روز لڑائی اور جھڑپیں ہوتی ہیں۔
انہوں نے پولیس اور نوجوان کے مابین ہنگامہ آرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس تھنڈر فلیش استعمال کرتے ہیں ‘دیکھو وہ کس طرح ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟’
غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس کے ایک رہنما موسا ابو مرزوق نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘ہم الاقصیٰ کے لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو صیہونیوں کے تکبر کی مخالفت کرتے ہیں اور ہم فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ وہ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں گزشتہ رات مسجد اقصیٰ میں شدید جھڑپوں کے بعد مزید محاذ آرائی کے پیش نظر سیکیورٹی بڑھا رہا ہے۔
ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ مصر مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فریقین کے مابین ثالثی کر رہا ہے۔
پولیس کمشنر یاکوف شبطائی نے کہا کہ ہفتہ کے روز بیت المقدس میں اضافی افسران تعینات کیے گئے تھے تاکہ ‘عبادت کی آزادی کو یقینی بنایا جاسکے اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے’۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہم پرتشدد فسادات، قانون شکنی اور پولیس افسران کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر ایک سے پرسکون رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔
اسرائیل کے فوجی ترجمان نے بتایا کہ اضافی دستے وہاں بڑی حد تک فائر فائٹنگ دستے ہوں گے۔
اس سے قبل جمعے کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔
امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے تشدد میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ یورپی یونین اور اردن سمیت دیگر نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاوہ ازیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے تل ابیب کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

4 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

4 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

1 week ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

1 week ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

1 week ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago