اسرائیل کی بھرپور مخالفت کے باوجود عالمی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر کو فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کا اختیار مل گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بين الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر کو فلسطينی علاقوں ميں اسرائیل کی جانب سے کيے گئے جنگی جرائم پر کارروائی کا اختيار حاصل ہوگیا ہے۔ آئی سی سی کے ججوں نے اس بارے ميں اسرائیلی اعتراضات کو مسترد کردیا۔
افریقی ملک گیمبیا سے تعلق رکھنے والی عالمی فوجداری کی پراسیکیوٹر فتوؤ بنیسودا نے فلسطین میں جنگی جرائم کی تفتیش کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاہم متنازع معاملہ ہونے کی وجہ سے انہیں ججز کی منظوری حاصل کرنا تھی۔
فلسطین میں جنگی جرائم پر تفتیش اور کارروائی کا اختیار عالمی فتوؤ بنیسودا کو ملنے پر امريکا اور اسرائيل نے تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم فلسطينی اتھارٹی نے اس فیصلے کو حق کی فتح قرار دیتے ہوئے خير مقدم کيا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت کی پراسيکيوٹر فتوؤ بنیسودا نے کہا ہے کہ 2014 کے دوران غزہ پٹی ميں اسرائيلی سکيورٹی فورسز جنگی جرائم کی مرتکب ہو سکتی ہيں تاہم فلسطینی تنظیم حماس کو بھی تفتیش کے دائرے میں لایا جائے گا۔
قانون کے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پيش رفت سے فلسطينی علاقوں ميں سرزد ممکنہ جنگی جرائم کی تحقيقات کی راہ ہموار ہو گئی جب کہ مستقبل میں بھی اسرائیلی فوج کارروائی سے قبل کئی بات سوچے گی۔
واضح رہے کہ فتوؤ بنیسودا کا تعلق گیمبیا سے ہے اور میانمار کیخلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ بھی اسی ملک نے دائر کیا تھا جس پر آنگ سان سوچی کو عدالت میں پیش ہوکر صفائی پیش کرنا پڑی تھی۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام