ایرانی اہل سنت کی خبریں

ایرانی بلوچستان: ممتاز عالم دین مولانا دہقان انتقال کرگئے

زاہدان (سنی آن لائن) مولانا محمد دہقان رحمہ اللہ زاہدان کے خاتم‌الأنبیا اسپتال میں پچیس اکتوبر 2020 کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا محمد دہقان جامعہ عین العلوم گشت (ضلع سراوان) کے ناظم اور فقہ و حدیث کے استاذ تھے۔ بوقت انتقال آپؒ کی عمر بیاسی برس تھی۔مولانا دہقان کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں آیاہے ان کی نماز جنازہ آج گُشت شہر کی عیدگاہ میں مغرب کے بعد ادا کی جائے گی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سمیت متعدد علمائے کرام نے مولانا دہقانؒ کے انتقال پرملال پر تعزیتی پیغامات جاری کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ مولانا عبدالحمید نے مولانا دہقان کو ’شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان‘ کے بانیوں اور آخری دم تک اس کے خادموں میں شمار کیا جو شیخ الحدیث مولانا محمدیوسفؒ کے ساتھی تھے اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے۔

انہوں نے کہا ہے علما کا انتقال مسلمانوں کے لیے بڑا نقصان ہے اور اس سے دیگر علما کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، چونکہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انتقال کرنے والے علما کا کام بھی آگے لے جانا چاہیے۔

مولانا دہقان کی پیدائش ضلع سراوان کے بخشان ٹاون میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا سید عبدالواحد گشتی (حضرت صاحبؒ) اور مولانا محمدیوسف حسین پور ؒ سے حاصل کرکے بعد ازآں پاکستان چلے گئے۔ آپؒ نے سابعہ اور دورہ حدیث کے اسباق کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں حاصل کرکے 1383 قمری کو فارغ التحصیل ہوئے۔ دارالعلوم میں انہیں سابق مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمدشفیعؒ، مولانا رشیداحمد لدھیانویؒ، مولانا اکبرعلی، مولانا سحبان محمود، مولانا سلیم اللہ خان رحمہم اللہ سمیت دیگر استاذہ سے استفادہ کا موقع ملا۔

مولانا دہقان رحمہ اللہ نے راولپنڈی میں دو مرتبہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خانؒ اور ایک مرتبہ حافظ الحدیث والقرآن مولانا عبداللہ درخواستیؒ کے پاس دورہ تفسیرپڑھنے کی سعادت پانے کے بعد وطن واپس ہوئے تھے۔

مولانا محمد دہقان رحمہ اللہ نے 53 سال تک جامعہ عین العلوم گُشت میں تعلیم و تدریس کے بعد آٹھ ربیع الاول 1442 کی صبح اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔

یاد رہے اس سے چند دن پہلے ایرانی بلوچستان کے بعض دیگر علمائے کرام بھی انتقال کرچکے ہیں جن میں جامعہ عزیزیہ کنارک کے مہتمم مولانا عبدالحکیم صالحی اور ضلع سرباز کے مولانا شیردل حسین زئی شامل ہیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago