عالم اسلام

امارات، بحرین کے اسرائیل سے تعلقات: فلسطین عرب لیگ اجلاس کی صدارت سے الگ

فلسطین نے عرب لیگ کے حالیہ اجلاس کی صدارت چھوڑ دی اور وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عرب معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے واشنگٹن میں اسرائیل سے تعلقات کے لیے معاہدے پر دستخط ان کے مقصد سے غداری ہے اور اسرائیل کے قبضے میں موجود علاقوں میں آزاد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کو نقصان پہنچے گا۔
عرب لیگ کے گزشتہ اجلاس میں فلسطین معاہدے کرنے والے لیگ کے رکن ممالک کی مشترکہ طور پر مذمت کروانے میں ناکام رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین کو اگلے 6 ماہ تک عرب لیگ کی صدارت کرنی تھی لیکن وزیر خارجہ ریاض المالکی نے رام اللہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں اس منصب کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ ‘فلسطین نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کونسل کے حالیہ اجلاس کی صدارت کے حق کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن ان کی صدارت میں عرب ممالک کا معاہدوں کے لیے بھاگنا کوئی اعزاز نہیں ہے’۔
اپنے بیان میں انہوں نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کا نام لے کر ذکر نہیں کیا جنہیں اسرائیل کی طرح ایران سے تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیث کو فلسطین کے فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
فلسطین کے اندرونی اختلافات کو دور کرنے کے لیے مغربی کنارے کے صدر محمود عباس کے الفتح کے عہدیداروں اور حماس کے درمیان مذاکرات ترکی میں ہونے والے ہیں۔
یاد رہے کہ حماس نے 2017 میں الفتح سے کشیدگی کے بعد غزہ کی پٹی میں حکومت قائم کی تھی اور دونوں گروپ اقتدار کے لیے اشتراک کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے اور یہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
خیال رہے کہ 11 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
امریکی صدر نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور بحرین صحیح معنوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سفارتخانوں اور سفارتکاروں کا تبادلہ کریں گے، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہو گا اور تعلیم، صحت، کاروبار، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا آغاز کریں گے۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔
بعد ازاں 16 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔
تقریب میں ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیانی بھی موجود تھے۔
متحدہ عرب امرات اور بحرین سے قبل 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن نے اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران کہا تھا کہ بہت جلد مزید 5 سے 6 ملک ہمارے ساتھ مل جائیں گے، تاہم انہوں نے ان ملکوں کے نام واضح نہیں کیے۔

baloch

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

7 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago