اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے باوجود کل جمعہ کو50 ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نمازیوں کی مسجد اقصیٰ آمد کا سلسلہ جمعہ کو علی الصباح ہی شروع ہوگیا تھا۔اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی۔
قابض فوج نے پرانے بیت المقدس اور اطراف میں بڑی تعداد میں فوج اور پولیس نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ فلسطینی شہریوں کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ ساتھ انہیں قبلہ اول آنے سے روکنے کے لیے ان کی شناخت پریڈ کی گئی۔
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے امام نے قبلہ اول میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ مسجد اقصیٰ تاریخ کے خطرناک اور فیصلہ کن موڑ سے گذر رہی ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کےنماازیوں پر اسرائیلی عدالتوں کی طرف سے پابندیوں کےنفاذ کی مذمت کی اور کہا کہ قبلہ اول صہیونی عدالتوں سے بالا تر ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید