اسلام

چار ایسے اعمال جو اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں

اہل علم کی محنت اور دعوت و تبلیغ کے کام کی برکت سے یورپ اور بیرون ممالک میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور کثیر تعداد میں لوگ اسلام قبول کررہے ہیں۔
اور وہاں کے بسنے والوں میں اسلام کی طرف دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ ویسے تو اسلام کی ہر ادا اور ہر حکم میں خاص کشش ہے، تا ہم بیرون دنیا میں جو لوگ اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اُن میں چار اعمال زیادہ کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ نو مسلمون کے احوال او رکارگزاریاں جب سامنے آتی ہیں تو اُن میں عموماً انہی چار اعمال کا ذکر زیادہ ملتا ہے، گویا اُن اعمال کو قبولیت اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لہذا تمام مسلمان بالخصوص مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمان ان چار اعمال و احکام پر پورے اہتمام، توجہ اور انہماک سے عمل پیراہوں۔ ان کی برکت سے اُن مسلمانوں کو نہ صرف دین کے دوسرے احکام پر چلنے کی توفیق نصیب ہوگی بلکہ ان اعمال کے اہتمام سے غیرمسلموں کے لئے اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان شاء اللہ یہ اہتمام ان مسلمانوں کے حق میں صدقہ جاریہ کا بھی باعث ہوگا۔

۱: اذان و نماز
بیرون ملک اسلام کا جو عمل مذہب اسلام کی طرف رغبت کا باعث بنتا ہے وہ اذان دے کر نماز پڑھنا ہے۔ جب وہاں اذان دی جاتی ہے۔ تو لوگ بہت حیرت تعجب اور دلچسپی سے اس عمل کو دیکھتے ہیں اور جب مسلمان نماز پڑھتے ہیں تو ان کے اس عمل سے غیرمسلم بہت ہی اطمینان اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ نماز کی حرکات و سکنات دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ حرکات کسی انسان کی تجویز کردہ نہیں ہیں بلکہ حکم خداوندی کی بجا آوری کا نمونہ اور نظارہ ہیں، اس لیے دیکھنے والوں کو ان سے روحانی سکون ملتا ہے۔ غیرمسلم پوچھتے ہیں کہ یہ آپ کیا کررہے تھے؟ کیوں کررہے تھے؟ جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا حکم ہے۔ مسلمان اس حکم پر عمل کرنے کے لئے یہ عمل انجام دیتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں تو یہی اذان اور نماز کا منظر بہت سے غیرمسلموں کے اسلام میں داخل ہونے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لہذا تمام مسلمان بالخصوص وہ مسلمان جو غیرمسلم ممالک میں رہتے ہیں۔ نماز کا خصوصی اہتمام فرمائیں۔ اس حکم کی ادائیگی سے جہاں نماز جیسا اہم فریضہ ادا ہوگا وہاں یہ عمل غیرمسلموں کو اسلام کے قریب تر لانے کا بھی ذریعہ بن جائے گا۔ اس حکم کی بجا آوری سے کسی کو مذہب اسلام قبول کرنے کی فکر پیدا ہوگئی تو یہ اُن کے لئے صدقہ جاریہ بھی ثابت ہوگا۔

۲: قرآن مجید
دوسرا عمل جو بہت سے غیرمسلموں کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے وہ اللہ پاک کا کلام یعنی قرآن مجید ہے۔ چونکہ دیگر آسمانی کتابیں اول تو ہو بہو محفوظ نہیں۔ دوسرے وہ منجانب اللہ منسوخ کردی گئی ہیں نیز زندگی کے تمام مراحل، اہم امور اور مختلف شعبہائے زندگی میں جیسی رہنمائی قرآن مجید پیش کرتا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں ملتی ۔ قرآن مجید اللہ تعالی کا آخری کلام اور آخری کتاب ہے۔ کتنے حق پسند اور حق کے متلاشی قرآن مجید کے مطالعے سے حق کا راستہ پالیتے ہیں۔ اور وہ بالآخر اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ قرآن مجید برحق کتاب ہے جو سابقہ آسمانی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ قرآن مجید ایک ایسا معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ قرآن مجید کی روشنی سے بھٹکی ہوئی انسانیت حقیقی منزل پاسکتی ہے۔ قرآن مجید کا مسلمانوں کے پاس مکمل محفوظ ہونا اس اُمت پر اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے اور اُسی کتاب مبین کے ذریعے ہم اسلام کا دین حق ہونا بھی ثابت کرسکتے ہیں۔
لہذا غیرمسلم ممالک میں تمام مسلمان قرآن مجید کی اہتمام سے تلاوت کریں۔ قرآن پاک سے محبت کریں۔ اور ہر مسلمان گھرانے میں قرآن پاک کے نسخہ جات موجود بھی ہوں اور تلاوت بھی کی جاتی رہے تو یہ اہتمام بھی غیرمسلموں کی ہدایت کی طرف آنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

۳: پردہ
غیرمسلم ممالک میں تیسرا عمل جو اسلام کی طرف کشش کا باعث بنتا ہے وہ پردہ ہے۔ پردہ یعنی حجاب اللہ تعالی کا حکم ہے۔ غیرمسلم ممالک میں بسنے والی کتنی خواتین نے اس حکم کی برکت سے اسلام قبول کرلیا۔ آج ہماری محرومی ہے کہ مشرق میں اس حکم پر عمل کرنے کو ایک طبقہ معیوب نگاہوں سے دیکھتا ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ بیرون ممالک میں حجاب کا حکم اسلام کی طرف رغبت کا باعث بن رہا ہے۔ کتنی غیرمسلم عورتوں نے مسلمان عورتوں کے حجاب سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ اس کی لاتعداد مثالیں اور واقعات ہیں جو دینی جرائد و کتب میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بات ہمارے وہاں کی مسلمان عورتوں کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ حجاب کے حکم پر عمل کے ذریعے وہ نہ صرف اللہ کا حکم پورا کرتی ہیں بلکہ ان کا یہ عمل غیرمسلم عورتوں کیلئے باعث تسکین اور دین اسلام کی طرف ان کے مائل ہونے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ لہذا وہ مسلم خوتین جو بیرون ممالک رہائش پذیر ہیں وہ پردے کے حکم پر اہتمام سے عمل کریں اس حکم کی تعمیل سے انھیں تبلیغ اسلام کا بھی اجر ملے گا کیونکہ غیرمسلم عورتیں اسلام کے حکم حجاب سے متاثر ہوکر اسلام بھی قبول کرلیتی ہیں۔

۴: مسنون اعمال
چوتھا عمل جو غیرمسلموں کو بہت متاثر کرتا ہے اور مذہب اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری ادائیں اور مسنون اعمال ہیں۔ جب غیرمسلم لوگ مسلمانوں کا مسنون لباس دیکھتے ہیں۔ ان کا مسنون طریقے سے کھانا پینا دیکھتے ہیں۔ سفر، رہن سہن اور دیگر امور زندگی میں سنت کا اہتمام دیکھتے ہیں تو یہ زندگی غیرمسلموں کو بہت جلد متاثر کرتی ہے۔ وہ ان مسنون اعمال کی برکت سے دین اسلام میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور حق کی راہ پالیتے ہیں۔ مسنون اعمال کی برکت سے اسلام قبول کرنے والوں کے لاتعداد واقعات ہیں لہذا غیرمسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان اگر سنتوں پر عمل کا اہتمام رکھیں تو انھیں جہاں اللہ تعالی کی محبوبیت نصیب ہوگی وہاں ان کا یہ مسنون عمل غیرمسلموں کے ہدایت پر آنے کا بھی ذریعہ بنے گا جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوگا۔
چار اعمال اپنے اندر بے پناہ کشش اور جاذبیت رکھتے ہیں اور غیرمسلموں کو اسلام کے قریب تر لانے کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے ان چار اعمال پر اہتمام سے عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago