مسلم اقلیتیں

بھارت کے زیرانتظام مقبوضہ کشمیر میں نئے نظام کا نفاذ،کوئی پرچم، کوئی آئین نہیں ہوگا

بھارت نے اپنے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں پارلیمان کے اگست میں منظور کردہ قانون نافذ کردیا ہے۔اس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختارحیثیت کو ختم کردیا گیا ہے اور اس متنازعہ علاقے کوبراہ راست وفاق کی عمل داری میں دے دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو وفاق کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے نفاذ سے قبل ریاست میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا تھا اور پورے علاقے میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔انھوں نے جگہ جگہ چیک پوائنٹس قائم کر لیے ہیں۔اگست کے بعد سے مقبوضہ وادی میں بیشتر دکانیں ، اسکول اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے جی سی مرمو کو ریاست کا نیا منتظم مقرر کیا ہے اور ان کے عہدے کو لیفٹیننٹ گورنر کا نام دیا گیا۔انھوں نے جمعرات کو اپنا منصب سنبھال لیا ہے۔پہلے اس متنازع ریاست کا منتظم اعلیٰ گورنر کہلاتا تھا۔
بھارتی حکام نے ریاست کے زیر انتظام ریڈیو اسٹیشن کا نام بھی تبدیل کردیا یے۔پہلے اس کا نام ریڈیو کشمیر سری نگرتھا۔اب اس کا نام آل انڈیا ریڈیو سری نگر ہوگا۔ واضح رہے کہ ریڈیو سری نگر نے 1947ء میں ہندوستان کی برطانیہ سے آزادی سے قبل اپنی نشریات شروع کردی تھیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت انتہا پسند ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو اس متنازع قانون کے نفاذ سے قبل ریاست کشمیر کے شہروں اور دیہات میں تعینات دیا گیا تھا تاکہ بھارت مخالف مظاہروں پر قابو پایا جاسکے۔
بھارتی حکومت کےاس نئے اقدام کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ایک پرچم اور ریاستی آئین سے محروم کردیا گیا ہے لیکن اس متنازعہ قانون کے نفاذ سے بھارتی آئین کی ایک شق کے تحت کشمیریوں کو حاصل ملکیت کے خصوصی حق کی تنسیخ کردی گئی ہے۔اب مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی جائیدادیں خرید کرسکیں گے۔کشمیری عوام بھارت کے اس اقدام کو اپنی زمین ہتھیانے کا ہتھکنڈا قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی پارلیمان کے ایک رکن اور ریٹائرڈ کشمیری جج حسین مسعودی نے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج (جمعرات کو) کشمیر میں ہر چیز تبدیل ہوگئی ہے ۔ہم ایک ریاست سے ایک بلدیہ میں تبدیل ہوکر رہ گئے ہیں۔یہ تمام مشق ہی غیرآئینی ہے۔اس کا طریقہ اور طریق کار غیر جمہوری ہے۔عوام کوبے توقیر کیا گیا ہے اور ان سے کبھی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔‘‘

حسین مسعودی جموں وکشمیر کی بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں مگر بھارتی حکام نے اس جماعت کے بیشتر لیڈروں کو اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کی پاداش میں پابندِ سلاسل کررکھا ہے۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

24 minutes ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago