بھارت کے اسکولوں میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو ہراساں کیاجانے لگا۔
پاک، بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں پر اسکولوں میں آوازے کسے جانے لگیں،ان بچوں کو اسامہ، بغدادی کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔
بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو پاکستان جانے کے طعنے بھی دیے جانے لگے، بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوسری طرف معروف بھارتی صحافی ساگریکا گھوش نے بھی ایک بھارتی اخبار کا تراشہ جاری کیا۔
انہوں نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی اینکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ فخر سے خود سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا‘‘کچھ بچوں کو رلانے پر مجبور کردیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار