بھارت کے اسکولوں میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو ہراساں کیاجانے لگا۔
پاک، بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں پر اسکولوں میں آوازے کسے جانے لگیں،ان بچوں کو اسامہ، بغدادی کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔
بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو پاکستان جانے کے طعنے بھی دیے جانے لگے، بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوسری طرف معروف بھارتی صحافی ساگریکا گھوش نے بھی ایک بھارتی اخبار کا تراشہ جاری کیا۔
انہوں نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی اینکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ فخر سے خود سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا‘‘کچھ بچوں کو رلانے پر مجبور کردیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان