بيانات

انسان کےلیے مناسک حج میں اہم پیغامات اور اسباق ہیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے حج جانے سے چند گھنٹے پہلے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حج کو اللہ تعالی کے موثر اور سبق آموز اصلاحی پروگراموں میں یاد کیا جو انسان کی ہدایت و تزکیہ کے لیے ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تین اگست دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ کا آغاز قرآنی آیت: «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ [بقره: 197]» کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی کا ہم انسانوں پر خاص فضل وکرم ہے۔ یہ اسی کا کرم ہے کہ ہماری روحانی و جسمانی ضرورتوں کے پیش نظر کچھ منصوبے بنائے گئے ہیں۔ الہی منصوبے اتنے پرزور اور صحیح ہیں کہ ماہرین بھی اس باریک بینی پر حیران ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: انسانی باڈی خود اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے؛ اللہ تعالی کی توحید تک پہنچنے کے لیے اسی ایک جسم کے مختلف اعضا کی کارکردگی کا مطالعہ کافی ہے۔ اللہ تعالی نے اس جسم کی تمام ضرورتوں اور راحت کے پیش نظر اسباب فراہم فرمایاہے۔ اس کی غذا اور بیماری کی صورت میں دوائی پیدا فرمائی ہے۔ اگر کسی بیماری کا علاج انسان کے علم میں نہیں ہے، یہ اس کی کمزوری ہے۔ ورنہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی بتایاہے۔
صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ تعالی نے انسان کی روحانی ترقی کے لیے اور اس کی ظاہری و باطنی ترقی کے لیے دین کو بھیجا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہماری تمام ضرورتوں کے لیے منصوبہ بندی فرمائی ہے۔ جس طرح جسم اپنی حیات کے لیے پانی اور کھانے کا محتاج ہے، روح کی بھی کچھ ضرورتیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: حج دین کے اہم اور بڑے منصوبوں میں شامل ہے جو ہدایت و تزکیہ کا باعث ہے۔ حج ایک کلاس ہے جس میں انسانی زندگی کے مختلف پہلووں کے لیے سبق پایاجاتاہے۔ حج کے تمام مناسک میں اسباق پائے جاتے ہیں۔ حج ہمیں اطاعت شعاری، ایثار و قربانی، توحید، اخلاص، دشمن کے سامنے مزاحمت اور نفس و شیطان سے مقابلے کا درس دیتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: حج سبق آموز ہے جو دین کے فرائض کے ساتھ ساتھ ایک عالمی اجتماع بھی ہے۔ اس میں خاص تاثیر ہے اور اللہ تعالی نے حج کو ایک بے مثال عبادت قرار دی ہے۔

حجاج کرام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالی ہرجگہ موجود ہے، لیکن حرمین شریفین عبادت کے مرکز اور دین کے عظیم شائر کے مقامات ہیں۔ لہذا حجاج کرام یہاں پہنچ کر اپنے تمام وسوسوں، پریشانیوں اور مصروفیات کو پیچھے چھوڑدیں اور یکسو ہوکر اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور توبہ و زاری کریں۔
انہوں نے مزید کہا: واجبات کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ نوافل و مستحبات میں بھی اللہ تعالی نے اثر رکھاہے اور بندوں کو فائدہ پہنچتاہے۔ دین ہماری ضرورت ہے اور انسان کو دین کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔ افسوس ہے کہ کچھ لوگ اس جانب توجہ مبذول نہیں کرتے اور اس سے غافل ہیں۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

2 days ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

2 days ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

4 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

4 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago