افغان طالبان نے امن مذاکرات کی حکومتی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں امن مذاکرات کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتی امن مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے غیرملکی افواج کے نکلنے تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترجمان نے حکومتی حکام کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نواز حکومت کے نمائندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔
ایک وقت تھا کہ جب طالبان نے امن مذاکرات کی ہامی بھری تھی تاہم انہوں نے ’پیس ٹاک‘ میں شامل نمائندوں کو امریکی نواز کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا اور مذاکراتی عمل کو غیر ملکی افواج کے انخلاء سے مشروط کیا تھا۔
واضح رہے کہ افغان حکومت نے 17 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم حکومت کو اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…