قابض اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقے پر دو فلسطینی نوجوانوں کو فائرنگ کر کے شہید کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین کے یوم ارض کے موقع پر ’ گھروں کی واپسی ‘ کی مہم کے تحت سیکڑوں مظاہرین اسرائیل کے سرحدی علاقوں پر سراپا احتجاج ہیں، مظاہرے کے دوران دو فلسطینی نوجوانوں کو سرحدی باڑ عبور کرتے ہوئے قابض اسرائیلی فوج نے گولیوں سے بھون ڈالا۔ شہید ہونے والے نوجوانوں کی عمریں 20 اور 23 برس ہیں۔
قبل ازیں جمعے کے روز مظاہرین کی جانب سے جلتی ہوئی اشیاء پھینکنے پر اسرائیلی فوج نے غزہ میں دھماکا کر کے حماس کے 6 کارکنان کو شہید کردیا تھا۔ حماس رہنما کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی ایک مہم کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حملے کی ویڈیو اور تصاویر بھی منظر عام پر آگئیں جس میں دھماکے کی جگہ سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے فلسطین میں یوم ارض کے موقع پر 30 مارچ سے اپنے گھروں کو واپسی کے عنوان سے احتجاجی مہم جاری ہے جسے سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کیں جس کے نتیجے میں مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافی سمیت 50 سے زائد فلسطینی شہید اور 400 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان