برطانوی عدالت نے نمازیوں پر گاڑی چڑھانے کے جرم میں مجرم ڈیرن اوسبورن کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق والوچ کراؤن کورٹ نے گزشتہ سال شمالی لندن کی ایک مسجد کے باہر نمازیوں پر گاڑی چڑھانے کے مقدمے میں مجرم کو قاتلانہ حملے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فرد جرم عائد کی تھی جس پر آج سزا سنادی گئی۔
عدالت نے قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مجرم کو 43 سال قید کی سزا سنائی ہے، 38 سالہ مجرم ڈیرن اوسبورن کو اب چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑے گا۔
اسلام مخالفت نظریات رکھنے والے مجرم نے 2017ء میں شمالی لندن کے علاقے میں فنزبری پارک میں واقع مسجد کے باہر نمازیوں پر گاڑی چڑھادی تھی جس کے نتیجے میں ایک 51 سالہ مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
حملے میں شہید ہونے والے شخص اکرم علی کی بیٹی روزینہ نے دوران سماعت سسکیوں اور آہوں کے ساتھ کہا کہ وہ دلخراش واقعے میں والد کی وفات پر جس کرب اور درد سے گزری ہیں وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…