روسی روزنامے کومرسینٹ نے دو ذریعوں کے حوالے سے بدھ کی شام بتایا ہے کہ 31 دسمبر 2017 کو شامی اپوزیشن گروپوں کی جانب سے حمیمیم کے فضائی اڈّے پر داغے گئے راکٹوں کے نتیجے میں کم از کم 7 روسی طیارے تباہ ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ 2015 میں روس کی جانب سے شام میں فضائی حملوں کی مہم کے آغاز کے بعد سے عسکری ساز و سامان کی مد میں اٹھایا جانے والا سب سے بڑا روسی نقصان ہے۔ حملے میں دس سے زیادہ عسکری اہل کار بھی زخمی ہوئے۔
مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ نے دو سفارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بم باری میں کم از کم چار سوخوی-24 طیارے، دو سوخوی-35 ایس طیارے اور ایک اینٹونوف-72 طیارہ تباہ ہوا۔ اس کے علاوہ گولہ بارود کا ایک ڈپو بھی حملے کی لپیٹ میں آیا۔
کومرسینٹ اخبار کے مطابق روسی وزارت دفاع نے رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز ہی وزارت دفاع نے بتایا کہ 31 دسمبر کو شام میں روسی فوج کا ایک Mi-24 ہیلی کاپٹر فنّی تعطل کے سبب گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے نتیجے میں اس کے دونوں ہواباز مارے گئے۔
روس نے گزشتہ ماہ سے شام میں حمیمیم کے فضائی اور طرطوس کے بحری اڈے پر اپنے مستقل وجود کے لیے کام شروع کر دیا۔ باوجود یہ کہ صدر ولادیمر پوتین نے شام میں کافی حد تک مہم جوئی کی تکمیل کے بعد وہاں پر اپنی افواج میں “بڑی” تعداد میں کمی لانے کا حکم جاری کیا تھا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید