ایک امریکی تھنک ٹينک نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپ ميں مسلمانوں کی تعداد مستقبل ميں بڑھے گی۔
ہجرت کو شامل کیےبغیر ہی امکان ہے کہ یورپ کی مجموعی آبادی ميں اس صدی کے وسط تک مسلمانوں کی شرح 7 اعشاریہ 4 فیصد ہو جائے گی۔
امریکا کے معتبر ريسرچ سينٹر’پيو‘ کی ايک تازہ تحقیق کے مطابق یورپ ميں مسلمانوں کی آبادی ميں اضافے کی پیش گوئی آبادی میں معمول کے اضافے، مہاجرين کی آمد اور اعلیٰ تعليم اور ملازمت کے لیےہونے والی اميگریشن کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر یورپ کی طرف ہونے والی غيرقانونی ہجرت فوری طور پر رک جائے تو پھر بھی مسلمانوں کی آبادی ميں اضافے کا امکان ہے اور یہ سن 2050 تک ی7 اعشاریہ 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
یورپ ميں 2016ء ميں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 4اعشاریہ 9 فیصد بنتی تھی۔ بالخصوص جرمنی پر نظر ڈالی جائے تو يہاں پچھلے سال مسلمانوں کی شرح 6فیصد تھی جو سن 2050 تک 9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان