خاش (سنی آن لائن) نامور سنی عالم دین نے صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کی بات کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے صوبے کی تقسیم کی بات کرنے والے یہاں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔
مولانا محمد عثمان خاشی نے جامع مسجد الخلیل خاش میں بات کرتے ہوئے کہا: جو لوگ تقسیم بلوچستان کے لیے کوشش کرتے ہیں، دراصل وہ یہاں چپقلش اور بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: حکام کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے بلوچستان اپنی ’قومی‘ اور ’ثقافتی‘ شناخت ہی سے باقی رہ سکتاہے۔
یاد رہے صوبہ سیستان بلوچستان ایران کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…