زاہدان (سنی آن لائن) ایران کے مختلف صوبوں میں سنی برادری کے خطبائے جمعہ نے اپنے بیانات میں تقریب حلف برداری میں سنی برادری کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق، صوبہ گلستان، خراسان رضوی، خراسان جنوبی، کرمانشاہ، کردستان، سیستان بلوچستان اور گیلان سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور علمائے کرام نے حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے نومنتخب صدر کو انتخابی مہم کے دوران دیے گئے وعدوں کو یاد دلایا۔
ڈاکٹر روحانی کی دوسری تقریب حلف برداری میں پندرہ ملین سے زائد سنی برادری کی کوئی بااثر شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا جس پر سنی رہ نماوں کے علاوہ متعدد شیعہ حلقوں نے بھی تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سنی شخصیات نے صدر روحانی کو مشورہ دیا ہے انتہاپسند حلقوں کے سامنے ڈٹ جائیں جو اپنی اجارہ داری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے حالیہ صدارتی انتخابات میں ساٹھ لاکھ سے زائد سنی ووٹرز نے اعتدال پسند ڈاکٹر روحانی کو ووٹ دیا ہے جو چوبیس ملین ووٹوں سے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔
اہل سنت کی شخصیات اور علمائے کرام میں مولانا محمدحسین گورگیج (صوبہ گلستان)، مولانا فرقانی (صوبہ خراسان)، مولانا عبداللہی (صوبہ خراسان جنوبی)، مولانا عبدالرشید (زابل سیستان بلوچستان)، مولانا فضل الرحمن کوہی (سیستان بلوچستان)، مولانا طیب ملازہی (سیستان بلوچستان)، ماموستان ملاقادر قادری (کرمانشاہ) اور شیخ شافی قریشی (گیلان) کے نام قابل ذکر ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…