افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب نیٹو افواج کے قافلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان حکام کا کہنا ہے کہ ‘نیٹو افواج کی بکتر بند گاڑی کے قریب صبح کے وقت دھماکا کیا گیا’۔
دار الحکومت میں موجود محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس حملے میں 8 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 25 افراد زخمی ہیں۔
تاہم فی الوقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بکتر بند گاری میں موجود کتنے اہلکار اس حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکا خودکش تھا، جس کے نتیجے میں قریب کھڑی عام شہریوں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں افغان طالبان نے افغانستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ’آپریشن منصوری‘ کے نام سے کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا۔
طالبان نے اس آپریشن کا نام مئی 2016 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے طالبان کمانڈر کے نام سے منسوب کیا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان