Egypt's President Hosni Mubarak attends a meeting with Qatar's Prime Minister Sheikh Hamad bin Jassim bin Jaber al-Thani at the presidential palace in Cairo in this December 11, 2010 file photograph. Egypt's public prosecutor has extended the detention of former president Mubarak by 15 days, a judicial source said on May 10, 2011. REUTERS/Amr Abdallah Dalsh/Files (EGYPT - Tags: POLITICS HEADSHOT)
مصرکے پراسیکیوٹر جنرل نے سابق صدر حسنی مبارک کو جیل سے رہا کرنے کے لیے آمادی کا اظہار کیا ہے جس کے بعد سابق صدر کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشرقی قاہرہ کے پراسیکیوشن کے فرسٹ پراسیکیوٹر جنرل نے نبیل صادق نے ایک یاداشت تیار کی ہے جس میں سابق صدر حسنی مبارک کو جیل سے رہا کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔
مصری پراسیکیوٹر جنرل نے حسنی مبارک کو المعادی ملٹری اسپتال میں سیکیورٹی حکام کی تحویل سے رہا کرنے کی منظوری دی ہے۔ سابق صدر نے اسی اسپتال میں اپنی قید کی سزا کاٹی ہے۔ حال ہی میں انہیں مظاہرین کے قتل کےالزامات سمیت دیگر الزامات سے بھی بری کردیاگیا تھا جس کے بعد ان کی رہائی کا امکان پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت کے ایک سابقہ فیصلے میں حسنی مبارک کو سنائی گئی تین سال قید کی سزا بھی ختم ہوچکی ہے۔
ادھر سابق صدر حسنی مبارک کے وکیل فرید الدیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپیل کورٹ کی طرف سے حسنی مبارک مظاہرین کے قتل کے مقدمہ میں بری ہونے کے بعد انہوں نے اپنے موکل کی رہائی کی درخواست دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک اپنی قید کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں اور ان کی مدت حراست ختم ہونے کے بعد بھی ایک سال گذر چکا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسنی مبارک کو نیومصر میں ھلیوبولس کے مقام پر ان کی رہائش منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی جگہ سابق صدر کو لانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سابق صدر کی رہائی کے بعد انہیں فول پروف سیکیورٹی بھی مہیا کی جائے گی۔
غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حسنی مبارک کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا مگر انہیں سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
العربیہ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار