ترک وزارت دفاع نے خواتین فوجی افسران کے دوران ڈیوٹی اسکارف پہننے پر عائد تاریخی پابندی اٹھا لی۔
ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے خواتین فوجی افسران کے دوران ڈیوٹی اسکارف پہننے پر عائد پابندی فوری طور پر اٹھالی گئی ہے جس کے بعد خواتین فوجی افسران اب دوران ڈیوٹی بھی اسکارف پہن سکیں گی، فیصلے کا اطلاق جنرل اسٹاف ، کمانڈ ہیڈ کوارٹر اور اس کی شاخوں پر فرائض انجام دینے والی افسران پر ہوگا۔
اسکارف پہننے سے متعلق جاری فیصلے میں خواتین افسران کو پابندی کیا گیا ہے کہ وہ یونیفارم کے رنگ سے ملتا جلتا اسکارف پہننے کی پابند ہوں گی تاہم انہیں چہرہ چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ اسکارف پہننے کے بعد اس پر روایتی فوجی کیپ پہننا بھی لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ ترک حکومت نے 2013 میں سرکاری تعلیمی اداروں میں خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی اٹھائی جس کے بعد گزشتہ سال اگست میں پہلی مرتبہ محکمہ پولیس میں خواتین کو اسکارف پہننے کی اجازت دی گئی اور اسے باقاعدہ طور پر وردی کا حصہ بنالیا۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…