امریکا میں ایک 15 سالہ مسلمان طالبہ کو حجاب لینے کی وجہ سے سکول بس سے زبردستی اتار دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی شہر یوٹا کی رہائشی ایک 15 سالہ مسلمان طالبہ کو صرف اس لیے زبردستی سکول بس سے اتار دیا گیا کیونکہ اس نے حجاب اوڑھا ہوا تھا۔ خاندان کے وکیل رانڈال سپینسر کے مطابق ٹمپوہائی سکول میں زیر تعلیم مسلمان لڑکی جاناں باقر سے بس ڈرائیور نے انٹرکام کے ذریعے اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ بس سے اتر جاؤ، تم یہاں کی نہیں ہو۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ یہ میرے مذہب کا حصہ ہے۔ میں ہر دن اپنے لباس کے ساتھ اپنے حجاب کا ملاپ کرتی ہوں۔ جاناں باقر نے بتایا کہ ڈرائیور نے کہا، ارے، تم نیلی چیز والی، تم اس بس پر نہیں چڑھو اور میں نے کبھی تمہیں سوار ہوتے نہیں دیکھا اس لئے اتر جاؤ۔ جاناں باقر نے کہا کہ یہ سن کر اسے شرمندگی ہوئی اور وہ بس سے اتر کر رونے لگی۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوئی کہ کس طرح ہر کوئی انہیں گھور رہا تھا۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان