مقبوضہ فلسطین سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے علاقے جنین کے قصبے یعبد سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی لڑکی کو اس وقت عدالتی احاطے سے گرفتار کر لیا گیا جب اس کے بھائی کے کیس کی سماعت جاری تھی۔
فلسطینی انجمن اسیران کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اکیس سالہ تقوی نفایات کو اس وقت حراست میں لیا وہ سالم کی فوجی عدالت میں اپنے بھائی نضال کے خلاف مقدمے کی سماعت سن رہی تھی۔
اطلاعات کے مطابق تقوی کی گرفتاری سے پہلے ایک خاتون اسرائیلی فوجی نے اس کی والدہ کو جان بوجھ کر دھکا دیا جس کے بعد وہ اہلکار سے الجھ پڑی۔تقوی کے زیر حراست بھائی کو اسلامی جہاد تنظیم سے تعلق کے شبہے اور اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں شرکت کی پاداش میں رواں سال اگست میں گرفتار کیا گیا تھا۔ نضال حالیہ گرفتاری اور مقدمے سے پہلے بھی نو برس صہیونی قید کاٹ چکا ہے۔
حال ہی میں تقوی کے دو دوسرے بھائی منادل اور ایوب 1948 میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والے علاقوں میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں دھر لئے گئے تھے۔
ایک دوسرے واقعے میں گذشتہ روز ہی اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل کے رہائشی 25 سالہ محمد حازم کو گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ شہر کی عدالت میں اپنا نکاح رجسٹر کرانے جا رہا تھا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے محمد حازم کو شہر کی ایک سڑک پر روکا اور بعد میں ایک فوجی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
بصیرت آن لائن
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید