اسرائیلی پراسیکیوٹر نے زیرحراست ایک 17 سالہ فلسطینی لڑکی پر پندرہ سال قید کی فرد جرم عاید کرنے کے لیے کوشاں ہے اور فلسطینی لڑکی کے خلاف مرکزی عدالت میں جاری مقدمہ میں اسے پندرہ سال تک قید کی سزا سنانے کی سفارش کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے قلندیا پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ نورھان عواد کے وکیل مفید الحاج کا کہنا ہے کہ صہیونی استغاثہ اس کی موکلہ کو پندرہ سال قید کی سزا دینا چاہتا ہے۔
مفید الحاج کا کہنا ہے کہ نورھان عواد کو 16 نومبر کو قید کی سزا سنائی جائے گی۔ اس وقت تک اسرائیلی پراسیکیوٹر کی پوری کوشش ہے کہ عواد کو زیادہ سے زیادہ قید کی سزا سنائی جائے۔
نورھان عواد کو اسرائیلی فوج نے 23 نومبر 2015ء کو حراست میں لیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر سولہ برس تھی۔ گرفتاری کے وقت اس کی چچا زاد ھدیل عواد کو گولیاں مار کرشہید کردیا گیا تھا۔ دونوں فلسطینی بچیوں پر بیت المقدس میں شاہراہ یافہ پر ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملے کا الزام عاید کیاگیا تھا۔
بصیرت آن لائن
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…