افغان طالبان نے ایک برس بعد دوبارہ قندوز شہر پر حملہ کرکے کئی اہم چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان طالبان شہر کے چاروں اطراف سے پیش قدمی کررہے ہیں، فائرنگ اور گولہ باری کی وجہ سے شہری محصور ہوگئے ہیں اور شہر میں اشیائے خردو نوش کی قلت ہوگئی ہے۔
گورنر قندوز کے ترجمان محمود دانش کا کہنا ہے کہ طالبان نے شہر پر چار اطراف سے حملہ کیا ہے اور وہ لوگوں کے گھروں کو اپنی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ طالبان اس وقت شہر کے جنوبی حصے میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی جاری ہے، طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کے کیے فضائی حملے بھی کئے جارہے ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ پیر کی صبح طالبان نے چاروں اطراف سے حملے کئے ہیں اور وہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، ان کی کارروائی میں کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، طالبان نے پولیس کی 4 اہم چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اب ہم قندوز شہر کے علاقوں سہ درک، پختی میدان اور سپین زر چمن میں داخل ہوچکے ہیں۔
طالبان نے قندوز پر اس وقت حملہ کیا ہے جب افغان صدر یورپی یونین کے اہم شہر برسلز میں ہیں، جہاں وہ ملک کی معیشت اور انفرا اسٹرکچر میں بہتری کے لئے عالمی رہنماؤں سے مالی امداد کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز بھی قندوز پر قبضہ کیا تھا جسے چھڑانے کے لیے امریکا کو اپنی زمینی اور فضائی فورسز کو استعمال کرنا پڑا تھا۔
بصیرت آن لائن
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…