Categories: تراشے

وفا کا پیکر، حیا کا سمندر

فدا کر دوں تجھ پر زمانے کا گوہر
نبی کی تو دو بیٹیوں کو شوہر
تو سوئم خلیفہ تو زلف ِعلی ہے
کہوں تیری شان کیا تُو رب کا ولی ہے
حیا کی کلی تو ریاضت میں برتر
سخاوت میں کوئی نہیں تیرا ہمسر
وفا کا پیکر تو حیا کا سمندر

کہ نور ِ حمیدہ سے دل تھا منور
فقیروں کا والی یتیموں کا ساتھی
یوں دولت غریبوں پہ تو نے لٹا دی
شہادت پر تیری تھے مسلم پریشاں
مگر میرے عثماں بڑے ہی تھے شاداں
شہادت ملی تجھ کو کچھ اس اداسے
لہو گِر پڑا تیرا رب کے قرآں پہ
میں جاں اپنی تجھ پر قربان کر دوں
کہ سارے زمانے کو حیران کر دوں
تمنا ہے میری کہ دل ہو یا جاں ہو
میرے پیارے عثماں تجھ پر فدا ہو

پیامِ حیاء ای میگزین

baloch

Recent Posts

رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کی علامت» ہے

رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…

2 hours ago

تین سنی بلوچ علما کو راسک کے انٹیلی جنس دفتر میں طلب کیا گیا

سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…

2 weeks ago

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…

2 weeks ago