فدا کر دوں تجھ پر زمانے کا گوہر
نبی کی تو دو بیٹیوں کو شوہر
تو سوئم خلیفہ تو زلف ِعلی ہے
کہوں تیری شان کیا تُو رب کا ولی ہے
حیا کی کلی تو ریاضت میں برتر
سخاوت میں کوئی نہیں تیرا ہمسر
وفا کا پیکر تو حیا کا سمندر
کہ نور ِ حمیدہ سے دل تھا منور
فقیروں کا والی یتیموں کا ساتھی
یوں دولت غریبوں پہ تو نے لٹا دی
شہادت پر تیری تھے مسلم پریشاں
مگر میرے عثماں بڑے ہی تھے شاداں
شہادت ملی تجھ کو کچھ اس اداسے
لہو گِر پڑا تیرا رب کے قرآں پہ
میں جاں اپنی تجھ پر قربان کر دوں
کہ سارے زمانے کو حیران کر دوں
تمنا ہے میری کہ دل ہو یا جاں ہو
میرے پیارے عثماں تجھ پر فدا ہو
پیامِ حیاء ای میگزین
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…