فدا کر دوں تجھ پر زمانے کا گوہر
نبی کی تو دو بیٹیوں کو شوہر
تو سوئم خلیفہ تو زلف ِعلی ہے
کہوں تیری شان کیا تُو رب کا ولی ہے
حیا کی کلی تو ریاضت میں برتر
سخاوت میں کوئی نہیں تیرا ہمسر
وفا کا پیکر تو حیا کا سمندر
کہ نور ِ حمیدہ سے دل تھا منور
فقیروں کا والی یتیموں کا ساتھی
یوں دولت غریبوں پہ تو نے لٹا دی
شہادت پر تیری تھے مسلم پریشاں
مگر میرے عثماں بڑے ہی تھے شاداں
شہادت ملی تجھ کو کچھ اس اداسے
لہو گِر پڑا تیرا رب کے قرآں پہ
میں جاں اپنی تجھ پر قربان کر دوں
کہ سارے زمانے کو حیران کر دوں
تمنا ہے میری کہ دل ہو یا جاں ہو
میرے پیارے عثماں تجھ پر فدا ہو
پیامِ حیاء ای میگزین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام