فدا کر دوں تجھ پر زمانے کا گوہر
نبی کی تو دو بیٹیوں کو شوہر
تو سوئم خلیفہ تو زلف ِعلی ہے
کہوں تیری شان کیا تُو رب کا ولی ہے
حیا کی کلی تو ریاضت میں برتر
سخاوت میں کوئی نہیں تیرا ہمسر
وفا کا پیکر تو حیا کا سمندر
کہ نور ِ حمیدہ سے دل تھا منور
فقیروں کا والی یتیموں کا ساتھی
یوں دولت غریبوں پہ تو نے لٹا دی
شہادت پر تیری تھے مسلم پریشاں
مگر میرے عثماں بڑے ہی تھے شاداں
شہادت ملی تجھ کو کچھ اس اداسے
لہو گِر پڑا تیرا رب کے قرآں پہ
میں جاں اپنی تجھ پر قربان کر دوں
کہ سارے زمانے کو حیران کر دوں
تمنا ہے میری کہ دل ہو یا جاں ہو
میرے پیارے عثماں تجھ پر فدا ہو
پیامِ حیاء ای میگزین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار