ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث بوسنیا کے سفاک سرب رہنما راڈوان کراڈزک کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دے کر 40 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
70 سالہ راڈوان کراڈزک پر نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹربیونل میں لاکھوں مسلمانوں، سرب اور کروشیائی باشندوں کے قتل عام، اُن کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔
راڈوان کراڈزک نے 1992 سے 1995 کے درمیان سربیائی فوج کی کمان سنبھالے رکھی اور مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا۔
جج اوگون کوون نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سرب، مسلم اور کروشیائی باشندوں پر بمباری اور گھات لگا کر قتل کرنے کے تمام واقعات کی پشت پناہی راڈوان کراڈزک کر رہے تھے۔
عدالت نے کراڈزک کو 11 میں سے 10 الزامات میں مجرم قرار دیا، انھیں سربرینکا میں ہونے والے جرائم کا بھی ذمہ دار قرار دیا گیا جہاں سربیائی فوج نے 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان کا قتلِ عام کیا تھا، اس کے ساتھ ہی انھیں سرائیوو شہر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا بھی مرتکب قرار دیا گیا جہاں 12 ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔
دوسری جانب راڈوان کراڈزک کے قانونی مشیر نے ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سربیا اور بوسنیا میں چھڑنے والی جنگ اُس وقت یک طرفہ نسل کشی میں بدلی جب سرب افواج نے ایک لاکھ سے زائد نہتے مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا۔
یہ جنگ چار سال تک جاری رہی جس کے بعد 1995 میں امریکا کی سربراہی میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت اس کا خاتمہ ہوا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…