پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ویلنٹائن ڈے کو اسلام اور پاکستانی ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے نہ منانے کی اپیل کی ہے.
ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ ویلنٹائن ڈے مغرب کی ثقافت کا حصہ ہے اسلام اور پاکستانی ثقافت میں اسے منانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ملک کے دیگر حصوں میں بھی ویلنٹائن ڈے کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مقامی انتظامیہ نے ویلٹائن ڈے کے کارڈز اور اس دن سے منسوب تمام اشیاء کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔
ضلعی ناظم کوہاٹ مولانا نیاز محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ویلنٹائن ڈے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ غیر شرعی ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موقعے پر لوگوں کو پھول اور کارڈ دینا مناسب نہیں ہے۔
پشاور کی مقامی حکومت نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں اس کو ’فضول دن‘ قرار دے کر اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی اور ایسی اطلاعات ہیں کہ انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ اس قرار داد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
جبکہ ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگانے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان