افغان شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب خود کش حملے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار نے پاکستانی، بھارتی اور ایرانی قونصل خانے کے قریب کھڑی پولیس کی گاڑی سے خود کو ٹکرایا جس سے گاڑی میں موجود 4 اہلکاروں اور 2 راہگیر ہلاک ہو گئے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے سے قبل فائرنگ بھی ہوئی تھی، جیسے ہی پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو دھماکا ہوگیا۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں افغان شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دھماکے میں تمام پاکستانی محفوظ ہیں، اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی سفارتکاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے اس حوالے سے پاکستان کو آگاہ کیا جائے۔ داعش نے پاکستانی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ حملے میں داعش کے تین جنگجووں نے حصہ لیا جن میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ اس حملے میں کئی لوگ مارے گئےاورعمارت کو تباہ کردیا گیا۔
واضح رہے کہ جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب ہی بھارت اور ایران کے قونصل خانے کی عمارتیں بھی واقع ہیں اور رواں ماہ اب تک افغانستان کے مختلف شہروں میں 2 بھارتی قونصل خانوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار