شورش اور خانہ جنگی کے شکار شام میں روسی مداخلت کے بعد اب تک 400 سے زائد عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں کم ازکم 97 بچے بھی شامل ہیں۔
شام میں انسانی حقوق پر نظررکھنے والی تنظیم، سیریئن آبزورویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق روس نے شام میں 30 ستمبر سے حملوں کا آغاز کیا اور 20 نومبر تک ان حملوں میں 403 عام شہری مارے گئے ہیں جن میں 25 فیصد تعداد بچوں کی ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی ایک اور تنظیم نے کہا ہے کہ مرنے والے بے گناہ شہریوں کی تعداد 526 ہے جس مین 137 بچے شامل ہیں۔
دونوں تنظیموں کے مطابق اکتوبر سے اب تک شام کے مختلف علاقوں میں بشارالاسد کی فوج نے 42 ہزار234 فضائی حملے کئے اوراس دوران شامی افواج نے 22 ہزار 370 بیرل بم گرائے جس کے نتیجے میں 6 ہزار889 عام شہری مارے گئے ہیں جس میں ایک ہزار436 بھی شامل ہیں ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے شامی عوام ملک چھوڑ رہے ہیں اور صرف حلب سے ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ 4 سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد شام میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جب کہ لاکھوں شامی پناہ کے لئے ترکی، اردن اور یورپ کے دیگر ممالک کا رخ کررہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…